Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh Government Crisis

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کا ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے باہر رہنے کا فیصلہ ایک بار پھر بحث کا محور بن گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ بورڈ نے عالمی ٹورنامنٹ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیوں کیا۔

ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت نے پرباچل پلاٹ اسکینڈل میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو 10 سال اوران کی بھانجی ٹیولپ صدیق کو4 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کیس میں شیخ حسینہ کے خاندان کے دیگرافراد کوبھی سزا سنائی گئی تھی۔

بنگلہ دیش کی فوج نے حال ہی میں ایک میڈیا رپورٹ کی تردید کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فوج کے اعلیٰ افسران نے تختہ پلٹ کی خدشات سے متعلق ایمرجنسی میٹنگ بلائی تھی۔ فوج نے اس رپورٹ کو پوری طرح سے جھوٹا اور بے بنیاد قراردیا ہے۔

جنرل وقار نے بگڑتے ہوئے امن و امان، غلط معلومات کا خطرہ اور اشتعال انگیز بیان بازی سمیت اہم خدشات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ملک اور اس کی عوام فوج کی اولین ترجیح بنی ہوئی ہے۔‘‘ آرمی چیف نے فوجیوں سے اپیل کی کہ وہ محتاط رہیں اور اشتعال انگیزی کا شکار نہ ہوں۔

ہندوستانی وزارت خارجہ یے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کے مشیر محفوظ عالم کے فیس بک پوسٹ پر سخت اعتراض جتایا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کی طرف سے بنگلہ دیش حکومت سے اس فیس بک پوسٹ پر احتجاج کیا ہے۔

مسلم راشٹریہ منچ نے حکومت ہند کی وزارت خارجہ کے ذریعہ بنگلہ دیش ہائی کمیشن اور محمد یونس حکومت کو ایک میمورنڈم پیش کیا، جس میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کو فوری طور پر روکنے اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

جاگرتو بنگلہ' کے کنوینر رنجن چودھری نے عہدیداروں کو بتایا کہ جب تک بنگلہ دیش نے ہندوستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رکھے اور سیکولرازم کی حمایت کی اس نے کافی ترقی کی ہے۔

شیخ حسینہ نے 13 اگست کو ایک بیان دیا تھا، جس میں شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش میں ہلاکتوں اور تشدد کو دہشت گردی کے واقعات قرار دیا تھا۔

بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی مناب زمین سے بات کرتے ہوئے شفیق الرحمان نے کہا، 'ہم ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں اور پڑوسیوں کو اپنی مرضی سے نہیں بدلا جا سکتا۔ یہ ایسی چیز ہے، جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

بنگلہ دیشی کھلاڑی پر قتل کا مقدمہ ڈھاکا کے ایڈابار کے پولیس اسٹیشن میں رفیق السلام نامی شخص کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔مقدمے کے متن کے مطابق متوفی روبیل کو 5 اگست کو ایڈابار میں رنگ روڈ کے احتجاجی مارچ میں شرکت کے دوران گولیاں لگی تھیں ۔