Bharat Express DD Free Dish

Balochistan Liberation Front

ترجمان کے مطابق بی ایل ایف کی قربان یونٹ نے بھی اس کارروائی میں کے اے اے ڈی کا ساتھ دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فورسز نے دونوں دستوں کو گھیرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے مقابلہ کرتے ہوئے محفوظ واپسی کی۔

پاکستانی حکام کی جانب سے بی ایل ایف کے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی آفیشل ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

بی ایل ایف نے کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے 28 دسمبر کو بلوچستان کے ٹمپ کے گومازی علاقے میں تیسرا حملہ کیا، جہاں ایک فورس چیک پوسٹ پر بھاری گولہ باری کی گئی اور وہاں تعینات پاکستانی فوجیوں کو “کافی نقصان” پہنچایا گیا۔

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، بلوچستان، ایک بار پھر شدید کشیدگی اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ خطہ دہائیوں سے سیاسی استحصال، فوجی آپریشنوں اور غیرملکی مفادات کی جنگ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آج بھی بلوچ عوام خود کو ایک آزاد قوم سمجھتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ زبردستی کیے گئے الحاق کو قبول نہیں کرتے۔

امریکہ نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ کوغیرملکی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ اس تنظیم کو پہلے ہی سال 2019 میں عالمی دہشت گرد قراردیا جا چکا ہے۔

بلوچ جنگجووں کے ان دعووں کے بعد پاکستان کی سیکورٹی اورخفیہ دونوں ایجنسیوں پر سوال کھڑے ہونے لگے ہیں۔ بی ایل اے کے مطابق، انہوں نے بینک، پولیس اسٹیشن سمیت اہم سرکاری اداروں پرقبضہ کرلیا ہے۔

بلوچستان میں رہنے والے لوگوں کو ایک عرصے سے اغوا اور گمشدگی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے ان معاملات میں کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی جارہی ہے،

اگست 1947 کو نئی دہلی میں ایک اجلاس ہوا ،جس کی صدارت اس وقت کے برطانوی وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کی اور اس میں اس وقت کے خان آف قلات، قلات کے وزیر اعلیٰ مسلم لیگ کے سربراہ محمد علی جناح اور انڈین نیشنل کانگریس کے سربراہ جواہر لعل نہرو نے شرکت کی۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھاکہ دوران کلیئرنیس آپریشن انتہائی اختیاط اور مہارت کا مظاہرہ کیا گیا اورمعصوم جانیں بچائی گئیں تاہم پہلے سے دہشتگردوں کی بربریت کا نشانہ بننے والے کچھ شہید مسافروں کی تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ اگست میں علیحدگی پسند عسکریت پسندوں نے پاکستان میں سلسلہ وار حملے کیے جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں میں پولیس اسٹیشنز، انفراسٹرکچر اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس میں بلوچستان کی ایک شاہراہ پر حملہ بھی شامل ہے جس میں مسلح افراد نے کم از کم 23 افراد کو زبردستی ان کی گاڑیوں سے اتار کر ان کی شناخت چیک کرنے کے بعد ہلاک کر دیا۔