Bharat Express DD Free Dish

Atiq Ahmad

جھانسی کے اسپتال میں عتیق احمد کے بیٹے ابان احمد کی لاش کا پوسٹ مارٹم کردیا گیا۔ ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ (دیہات) اروند کمار نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کا بیٹا ابان احمد اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ جھانسی جیل میں بند اپنے بھائیوں سے ملنے جا رہا تھا، تبھی راستے میں پنچھ تھانہ علاقے میں جھانسی-کانپور نیشنل ہائی وے پراس کی تیز رفتارسے گزررہی کار(ایس یووی) بے قابوہوکرایک ڈیوائیڈرسے ٹکرا کرپلٹ گئی۔

عتیق احمد کے چھوٹے بیٹے آبان احمد کی ایک سڑک حادثے میں موت ہو گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ جیل میں بند اپنے بڑے بھائی سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔ جانیے اس پورے واقعے کی تفصیلات۔

یوپی پولیس کو عتیق احمد اور اشرف قتل کیس میں کلین چٹ مل گئی ہے۔ جمعرات کو اسمبلی میں پیش کی گئی جوڈیشل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں پولیس کو اس معاملے میں بے گناہ قرار دیا گیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عتیق احمد اور اشرف کا قتل پہلے سے منصوبہ بند نہیں تھا۔

بی جے پی میں شامل ہونے والے آئی پی ایس پریم پرکاش نے مختار انصاری اور عتیق احمد پربڑا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے دعوے سے بی جے پی کو نیا موضوع ملنے کے آثارہیں۔

عتیق احمد کے 10 بینک اکاؤنٹس اور شائستہ پروین کے ایک بینک اکاؤنٹ میں 1.28 کروڑ روپے جمع کرائے گئے تھے۔اس کے علاوہ ای ڈی نے گزشتہ سال عتیق احمد کے ساتھیوں سے جڑے 27 مقامات کی تلاشی لی تھی۔

دونوں کو اکتوبر 2023 میں جوینائل گھر سے رہا کیا گیا تھا۔ دونوں بچوں کی تحویل ان کی خالہ پروین قریشی کو دی گئی ۔اس دوران  دونوں اسکول نہیں جاسکے۔ پچھلی بار والد عتیق احمد، چچا اشرف اور بھائی اسد کی موت کی وجہ سے دونوں نے امتحان نہیں دیا تھا۔

ڈاکٹرز کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں موت کی وجہ ہارٹ فیل ہونا ہے۔ پولیس نے پنچنامے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ امیش پال اور ان کے دو سیکورٹی گارڈز پر حملے کے دوران جس کار کا استعمال کیا گیا تھا، وہ مبینہ طور پر نفیس بریانی کی تھی۔

یوپی ایس ٹی ایف نے سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے بھائی محمد اشرف کے سالے صدام کو دہلی سے گرفتار کرلیا ہے۔ صدام پر ایک لاکھ روپئے کا انعام اعلان کیا گیا تھا۔

سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی اور یوپی کے ایڈوکیٹ جنرل اجے کمار مشرا نے یوپی حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے بنچ کو بتایا کہ ہر انکاؤنٹر کیس کی جانچ سی آر پی سی کی دفعات کے تحت کی گئی ہے۔

اس قتل عام کے بعد پریاگ راج کے پولیس کمشنر نے قتل کی تحقیقات کے لیے تین رکنی ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ دونوں بھائیوں کے قتل سے متعلق چارج شیٹ میں بڑا انکشاف ہو سکتا ہے۔ تاہم ذرائع کی مانیں تو تحقیقات میں کوئی نیا حقائق سامنے نہیں آئے۔