Bharat Express DD Free Dish

Arshad Madani

جمعیت علماء ہند کے قومی صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک مسجد کا نہیں ہے، بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، شہریوں کی مساوات اور ریاست کے غیر جانب دارانہ کردار جیسے بنیادی سوالات سے جڑا ہوا ہے۔

مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ یہ فلم نہ صرف ہندوستان اور پاکستان کے معاملے پر مرکوز ہے بلکہ اس میں ہندوستانی مسلمانوں کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے جس سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ مدراس مسلمانوں کی پہچان ہیں اور ہم اپنی اس پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے۔ ’تحفظ مدارس کنونشن‘ میں انہوں نے کہا کہ مدارس سے ہی ملک کو غلامی سے آزاد کرانے کی پہلی آواز اٹھی تھی، لیکن سازش کے تحت اب اسے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجنے کا ڈھونگ رچایا گیا لیکن اپوزیشن جماعتوں کی تجاویز اور سفارشات کو مسترد کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ جو چودہ ترامیم کی گئیں ان میں بھی چالاکی سے ایسی شقیں شامل کی گئیں جن سے حکومت کو وقف املاک پر قبضہ کرنے میں آسانی ہو جائے۔

جمعیۃ علماء ہند حکومت کے اس فیصلے کو نینیتال ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں میں چیلنج کرے گی۔ جمعیت اس کو جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی رہنمائی میں چیلنج کرے گی۔

مولانا ارشد مدنی نے بزمِ صحافت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے اپنے پرخلوص محبت کی بنیاد پر بلایا، اس کے لیے میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ صورتحال یہ ہے کہ مسلمان ہندوستان کو اپنا ملک سمجھتے ہیں اور ہم ہمیشہ سے اسی ملک کے رہنے والے ہیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ مسلمان ہندوستان کو اپنا ملک نہیں مانتے۔

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی دعوت پر جمعیۃ کے مرکزی دفتر نئی دہلی میں وقف (ترمیمی) بل سے متعلق ایک اہم مشاورتی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں مختلف ملی تنظیموں کے سربراہان ، سیاسی و سماجی شخصیات اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔

 سیلاب سے متعددگاؤں پوری طرح تباہ ہوچکے ہیں،ہزاروں کی تعدادمیں لوگ اب بھی کیمپوں میں رہ رہے ہیں، ان میں سے بعض متاثرین ایسے بھی ہیں جواب وہاں سے دورکسی دوسری جگہ کرایہ پر رہ رہے ہیں، جمعیۃعلماء کے ذریعہ انہیں بھی کھانے پینے کی اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔

مولانا ارشد مدنی کے مطابق "ہم پر قدغن لگائی جا رہی ہے، ووٹوں کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے، یہ بھی ایک مسئلہ ہے،اس کی وجہ سے  مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ کچھ پارٹیوں نے کہا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئیں تو اقلیتوں کو  نہیں تنگ کریں گے۔

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند لاتعداد مقدمات لڑرہی ہے اور اس تجربات کی بنیاد پرہی ہم یہ بات کہتے ہیں کہ اب عدالتیں ہی انصاف کا واحد سہارا رہ گئی ہیں، جہاں سے مظلوموں کو انصاف مل سکتا ہے۔