Bharat Express DD Free Dish

America

ایک مشترکہ بیان میں امریکہ اور یوکرین نے کہا ہے کہ یوکرین سعودی عرب میں امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران روس کے ساتھ تنازعہ میں فوری طور پر 30 روزہ جنگ بندی کے لیے راضی ہو گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وہ اب اس پیشکش کو روسیوں کے پاس لے جائیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اب معاملہ ماسکو کے ہاتھ میں ہے۔

بدھ کے روز ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے ریمارکس کی تعریف کرنے سے انکار کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے اسے ’بہت افسوسناک‘ قرار دیا اور کہا، ’’میں اپنے سامنے ڈیموکریٹس کو دیکھتا ہوں، اور مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں ان کو خوش کرنے یا انہیں کھڑا کرنے یا مسکرانے یا تالیاں بجانے کے لیے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں کچھ نہیں کر سکتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات (27 فروری 2025) کو کہا کہ میکسیکو اور کینیڈا پر ٹیرف پلان 4 مارچ سے نافذ العمل ہوگا۔ ان ممالک سے آنے والی اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

ایران کو خود پر حملے کا خدشہ ہے اور اس کے پیش نظر اس نے اپنے جوہری مقامات کے ارد گرد سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر اپنے جوہری مقامات کے ارد گرد سیکورٹی بڑھا دی ہے۔

امریکی صدر نے جنرل سی.کیو. براؤن کو چیئرمین جوائنٹ چیفس کے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ اب ان کی جگہ امریکی فضائیہ کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ڈین کین لینج کو تعینات کیا جائے گا۔

امریکہ سے 119 غیر قانونی تارکین وطن کو لے کر آنے والا ایک طیارہ ہفتے کی رات (15 فروری 2025) کو امرتسر ہوائی اڈے پر اترے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی بدھ (12 فروری 2025) سے امریکہ کے دو روزہ دورے پر جائیں گے۔ پی ایم مودی کا یہ دورہ ہندوستان امریکہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ہوگا۔

امریکہ کے صدرڈونالڈ ٹرمپ نے 4 فروری کو بنجامن نیتن یاہوکے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ اس میں انہوں نے غزہ پٹی کی تعمیر نو کے لئے ایسا پلان پیش کیا تھا، جو غزہ کے ساتھ مسلم ممالک بھی تسلیم نہیں کریں گے۔

امریکہ سے ملک بدر کیے گئے 104 ہندوستانیوں کو لے کر ایک امریکی فوجی طیارہ بدھ (5 فروری) کو سری گرو رام داس جی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا۔

شام میں امریکہ کا التنف بیس اسرائیل کی سیکورٹی کے لئے بے حد خاص ہے۔ اگرامریکہ شام سے باہرنکلا تو یہ اسرائیل کے لئے اچھی خبر نہیں ہوگی۔ اسد حکومت کے خاتمہ کے بعد اسرائیل سے متصل شام سرحد سے اسرائیلی فوج کئی کلو میٹراندرتک آگئی ہے اوران کے قبضے کے خلاف شام میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔