Bharat Express DD Free Dish

America

اسرائیل کو 81 فیصد ہتھیار امریکہ سے ملتے ہیں جبکہ 15 فیصد ہتھیار جرمنی سے آتے ہیں۔ بحیرہ روم پہلے ہی حماس اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ہے۔

US President Joe Biden on Israel-Palestine War: امریکی صدر جو بائیڈن نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے حملے کا مقصد اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان بحال ہو رہے تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری جنگ کے مد نظربرطانوی وزیر اعظم رشی سنک جمعرات 19 اکتوبر کو اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے اوران سے مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ اینٹنی بلنکن اس مشن پر نکلے ہوئے ہیں کہ عرب ممالک اسرائیل پر ہوئے حملوں کے بعد حماس کی تنقید کریں۔ ساتھ ہی اپنے یہاں ہو رہے گھریلو احتجاجی مظاہرہ کو بھی عرب ممالک روکیں۔

چین نے دونوں فریقوں سے امن بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ "ہمیں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعہ پر گہری تشویش ہے۔ ہمیں دونوں طرف سے ہونے والی ہلاکتوں سے بہت دکھ ہوا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ "اسرائیل کو اپنے اور اپنے لوگوں کے دفاع کا حق حاصل ہے۔ امریکہ اس جنگی صورتحال میں اسرائیل کے خلاف فائدہ اٹھانے کی سوچ رکھنے والے کسی بھی فریق کو خبردار کرتا ہے۔"

ہم نے اردو کا خوبصورت رسم الخط سیکھا اوریہ سیکھا کہ اس کی تاریخ جنوبی ایشیا کی مالا مال ثقافت سے کس طرح جڑی ہوئی ہے۔ شعبہ ایشیائی زبان و ادب کے ہمارے پروفیسر جمیل احمد اپنے بچپن کی کہانیاں سنایا کرتے ۔ یوں گویا زبان زندہ ہو جایا کرتی۔ وہ ہمیں بھی اپنی اپنی کہانیاں اردو میں شیئر کرنے کی ترغیب دیا کرتے۔

بیان کے مطابق، دھوکہ دہی میں ملوث تین دیگر افراد نے مجموعی طور پر 1.4 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ وصول کیے۔ ملزمان کو اگلے سال 4 جنوری کو سزا سنائی جائے گی جس میں ہر مجرم کو زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ مظاہرین ایڈی ایریزری کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے، جنہیں گزشتہ ماہ فلاڈیلفیا کے ایک پولیس افسر نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

چین کے بیجنگ نواز انگریزی زبان کے اخبار گلوبل ٹائمز (جی ٹی) نے مسلسل تین دنوں میں اس تنازعہ پر پانچ رپورٹیں شائع کیں۔ ان سب میں نئی دہلی اور اوٹاوا کے بارے میں کم ہی بات ہوئی۔ پوری توجہ امریکہ کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرنے پر مرکوز تھی۔