Bharat Express DD Free Dish

Afzal Ansari

مختار انصاری کے تجہیز وتدفین کی تیاری چل رہی ہے فی الحال باندہ میڈیکل کالج میں ان کا پوسٹ مارٹم کیا جارہا ہے۔ پانچ ڈاکٹروں کا پینل اہل خانہ کی موجودگی میں مختار انصاری کا پوسٹ مارٹم کررہا ہے، پوسٹ مارٹم کے بعدمختار انصاری کو آبائی قبرستان محمد آباد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

منگل کو مختار کو پیٹ میں گیس اور یورین انفیکشن کی شکایت پر میڈیکل کالج اسپتال لایا گیا تھا۔ جہاں انہیں آئی سی یو میں رکھا گیا تھا۔ تاہم بعد میں انہیں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ حالانکہ اس سے قبل ان کے پیٹ کا ایکسرے بھی کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کی شوگر، سی بی سی، ایل ایف ٹی اور الیکٹرولائٹ کے ٹیسٹ کیے گئے۔ رپورٹ نارمل ہونے کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیا گیا۔

معلومات کے مطابق وہ قبض اور یورین انفیکشن میں مبتلا ہیں۔ 5 دن پہلے بھی ان کی طبیعت بگڑ گئی تھی۔ اس وقت مختار کو پیٹ میں درد ہواتھا جس کی وجہ سے وہ بیت الخلا جاتے ہوئے گر گئے۔ اس کے بعد بھی انہیں علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔

جیل میں بند یوپی کے سابق رکن اسمبلی مختار انصاری کی طبیعت اچانک خراب ہونے کے بعد انہیں باندا میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، ان کے بیٹوں عباس اور عمر انصاری نے فیس بک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے والد کی طبیعت زیادہ خراب ہے۔ اسپتال کے باہر سے ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں پولیس اہلکار تعینات نظر آرہے ہیں۔

غازی پور میں ہم کتنا مشکل مقابلہ دیکھتے ہیں۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اب افضل انصاری نے کہا کہ ہم عوام پر اعتماد کرنے والے لوگ ہیں۔ رائے عامہ ہی ہر چیز کا فیصلہ کرتی ہے۔

غازی پور سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار افضال انصاری نے بی جے پی پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مجھے الیکشن لڑنے کا اہل ٹھہرایا ہے، اس لئے بی جے پی پریشان ہے۔

سماج وادی پارٹی نے اب تک یوپی میں 31 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں، کانگریس کے کھاتے میں  17 سیٹیں جاچکی ہیں ۔امیدواروں کے ناموں پر غور و خوض جاری ہے

سماج وادی پارٹی کی موجودہ فہرست کے بعد ایک طرف یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ غازی پور سے بی ایس پی کسے اپنا امیدواربنائے گی۔ وہیں دوسری طرف کانگریس کے لیے تشویشناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سابق رکن پارلیمنٹ کی طرف سے پیش وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا تھا کہ عدالت کے معاملے کے ہر پہلو کو دیکھنا چاہئے۔ کیونکہ اگران کی سزا پر روک نہیں لگائی گئی تو ان کا غازی پورپارلیمانی حلقہ لوک سبھا میں بغیرنمائندے کا ہوجائے گا۔

یاد رہے کہ سال 2010 میں کارنڈہ تھانے میں دو مقدمات میں گینگ چارٹ بنانے کے بعد لگائے گئے گینگسٹر ایکٹ کے معاملے میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ جبکہ مختار انصاری کو اصل کیس میں بری کر دیا گیا ہے۔ ایسے میں کیا وجہ ہے کہ اصل کیس میں بری ہونے کے باوجود مختار انصاری کو گینگسٹر ایکٹ کے تحت سزا دی جا رہی ہے۔