Bharat Express DD Free Dish

Acharya Pramod Krishnam

" ممتا  کلکرنی نے کہا، مسلمانوں نے مجھے بہت پیار دیا ہے اور میری سادھنا کے دوران  میں نے دبئی میں کافی وقت گزارا، جہاں مجھے بہت سکون ملا۔ میں مسلمانوں سے پیار کرتی ہوں، لیکن مجھے دہشت گردی سے پیار نہیں ہے۔

آچارِیہ پرمود نے اپنی پوسٹ میں ریزورٹ کے مالک کمل ناتھ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے قیام کو یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تصاویر میں وہ ایک بڑے درخت کو چھوتے ہوئے اور ندی کے کنارے گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

انھوں نے کانگریس لیڈر اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس کے تمام لیڈران راہل گاندھی سے ناراض ہیں۔

حال ہی میں لندن کے نو منتخب میئر راج کمارشرما نے ہندوستان آنے کا وعدہ کیا ہے۔ آچاریہ پرمود کرشنم سے ویڈیوکال پرنیک خواہشات حاصل کرنے کے بعد انہوں نے”شری کلکی دھام“ آنے کی دعوت قبول کی۔

آپریشن سندور اور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی مستقل لڑائی سے متعلق جانکاری دینے کے لیے 7 کُل جماعتی نمائندہ وفد یو این ایس سی اراکین سمیت اہم شراکت دار ممالک کا دورہ کرے گا۔ ششی تھرور کے انتخاب پر اعتراض کرنے والوں پر آچاریہ پرمود کرشنم نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا کہ وزیراعظم مودی راشٹر بھکتوں کی عزت کرنا چانتے ہیں۔

آپریشن سندور کے بعد بھارتی فوج نے پاکستان کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا۔ اس پر سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے مودی حکومت کی تعریف کی ہے۔ کانگریس کے سابق لیڈر آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن راہل گاندھی کو یہ بات اچھی نہیں لگی ہوگی۔ حالانکہ تعریف تو راہل گاندھی کو بھی کرنی چاہئے تھی۔

راہل گاندھی کے بھگوان رام کو ایک افسانوی کردار بتانے پر آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا، " بھگوان رام کو بھگوان  وہی انسان مانتا ہے جس کی  آستھا بھگوان میں ہے،  جس انسان کی  بھگوان رام میں آستھا نہیں ہے،وہ بھگوان رام اور رام مندر پر سوال اٹھائے گا۔

اس ملاقات کے دوران دونوں کے درمیان باہمی احترام کے جذبات کے اظہار کے ساتھ متعدد موضوعات پر تبادلۂ خیال بھی کیا گیا۔

پہلگام حملے پر کانگریس لیڈروں کے بیانات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ دراصل راہل گاندھی ہندوؤں کو دھوکہ دینے کا کام کر رہے ہیں۔

آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں بھارت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قومی سطح پر اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدام اٹھایا جائے۔