کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی ایک بار پھر اپنے بیان کو لے کر سرخیوں میں ہیں۔ بھگوان رام کو فرضی کردار قرار دینے کے ان کے بیان نے ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔ اپنے دورہ امریکہ کے دوران براؤن یونیورسٹی میں منعقدہ ایک پروگرام میں راہل گاندھی نے کہا کہ سبھی افسانوی کردار ہیں۔ بھگوان رام بھی اسی طرح ہی تھے، وہ معاف کرنے والے اور مہربان تھے۔
بی جے پی نے راہل گاندھی کے بیان پر کسا طنز۔ بی جے پی لیڈر شہزاد پونا والا نے کہا کہ بھگوان رام کے وجود پر شک کرنے والے راہل گاندھی کو ملک کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اس کے بعد کلکی دھام کے سربراہ آچاریہ پرمود کرشنم نے بھی راہل گاندھی کے بیان پر تنقید کی ہے۔
#WATCH | Ghaziabad, UP | On Rahul Gandhi reportedly calling lord Ram a mythological figure, Former Congress leader Acharya Pramod Krishnam says, “Only that person believes that Lord Ram is a god who has faith in him. The person who has no faith in Lord Ram will raise questions… pic.twitter.com/9whcbKqXzY
— ANI (@ANI) May 4, 2025
صرف وہی لوگ جو بھگوان رام پر یقین رکھتے ہیں
راہل گاندھی کے بھگوان رام کو ایک افسانوی کردار بتانے پر آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا، ” بھگوان رام کو بھگوان وہی انسان مانتا ہے جس کی آستھا بھگوان میں ہے، جس انسان کی بھگوان رام میں آستھا نہیں ہے،وہ بھگوان رام اور رام مندر پر سوال اٹھائے گا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “راہل گاندھی سمجھتے ہیں کہ وہ ذات پات کی مردم شماری کر کے اقتدار حاصل کر لیں گے۔ راہل گاندھی نے سوچا کہ وہ سرجیکل اسٹرائیک پر سوال اٹھا کر اور اس کا ثبوت مانگ کر اقتدار حاصل کر لیں گے… ملک کے لوگ بہت باشعور ہیں۔”
اس کے علاوہ بی جے پی کے ترجمان CR Kesavanنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر راہل گاندھی کے تبصرے کا ایک کلپ بھی شیئر کی اور لکھا کہ راہل گاندھی کی کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے 2007 میں سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا تھا ،جس میں کہا
گیا تھا کہ بھگوان رام کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔
بھار ت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



