بنگلہ دیش کرکٹ ان دنوں شدید اندرونی بحران کا شکار ہے۔ تنازع اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ کھلاڑیوں نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے بائیکاٹ کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔ ٹی20 ورلڈ کپ کے وینیوز سے متعلق جاری کشمکش کے دوران بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے متنازع بیان نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
تنازع کیسے بھڑکا؟
اصل میں بی سی بی کی فنانس کمیٹی کے چیئرمین ایم نجمل الاسلام نے بنگلہ دیش کے مایہ ناز کرکٹر اور سابق کپتان تمیم اقبال کے خلاف انتہائی متنازع تبصرہ کر دیا۔ نجمل الاسلام نے سرِعام تمیم اقبال کو ’’بھارتی ایجنٹ‘‘ قرار دے دیا۔ درحقیقت تمیم اقبال نے یہ مشورہ دیا تھا کہ ٹی20 ورلڈ کپ کے مقامات کے حوالے سے پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے کے لیے بی سی بی کو آئی سی سی (ICC) اور بی سی سی آئی (BCCI) کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے۔ تمیم کا یہ مشورہ نجمل الاسلام کو اس قدر ناگوار گزرا کہ انہوں نے شائستگی کی تمام حدیں پار کر دیں۔
’’کھیلے یا نہ کھیلے، بورڈ کو فرق نہیں پڑتا‘‘
نجمل الاسلام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر بنگلہ دیش کی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لیتی تو بورڈ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی ٹیم بھارت جانے کے لیے تیار نہیں ہے اور ایسی صورت میں بورڈ کو نہ کوئی مالی نقصان ہوگا اور نہ ہی کوئی فائدہ۔ ان کے اس ’’بے پروا‘‘ رویے نے بنگلہ دیشی کرکٹ شائقین اور کھلاڑیوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
کھلاڑیوں کا سخت مؤقف
نجمل الاسلام کے بیان کے بعد ’’کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش‘‘ (CWAB) میدان میں آ گئی ہے۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے توہین آمیز بیانات قطعی ناقابلِ قبول ہیں اور یہ کھلاڑیوں کی عزت و وقار پر براہِ راست حملہ ہیں۔ کھلاڑیوں نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس معاملے میں کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی تو وہ آئندہ بی پی ایل میچز کا بائیکاٹ کریں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب بورڈ کا کوئی ذمہ دار رکن ہی کھیل اور کھلاڑیوں کی قدر نہیں کرتا تو میدان میں اترنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
بورڈ نے خود کو الگ کر لیا
چاروں طرف سے تنقید کا سامنا کرنے کے بعد بی سی بی بیک فٹ پر آ گیا ہے۔ بدھ کی شام بورڈ نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے نجمل الاسلام کے بیان سے خود کو مکمل طور پر الگ کر لیا۔ بی سی بی نے واضح کیا کہ یہ خیالات نجمل الاسلام کے ذاتی ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا بورڈ کے اصولوں اور اقدار سے کوئی تعلق نہیں۔ بورڈ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیان نامناسب اور دل آزاری کا باعث ہیں، جو بی سی بی کے طے شدہ ضابطۂ اخلاق کے خلاف ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



