Urdu Conclave 2026

اسپورٹس

لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پی سی بی نے ٹیسٹ ٹیم میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان، اوپنر امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس جعفر اور خرم شہزاد کو ٹیم سے ریلیز کرکے پاکستان واپس بلا لیا ہے۔

انگلینڈ کے فاسٹ بولرز اولی رابنسن اور جوش ٹنگ کو پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں شاندار کارکردگی کا انعام آئی سی سی کی تازہ ٹیسٹ بولنگ رینکنگ میں ملا ہے۔

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق اسپنر راہل سانگھوی کا بین الاقوامی کیریئر اگرچہ زیادہ طویل نہیں رہا، لیکن کوچ کی حیثیت سے انہوں نے ایک طویل اور کامیاب اننگز کھیلی ہے۔

افغانستان کے خلاف 13 ستمبر سے شروع ہونے والی 3 میچوں کی T20 سیریز کے لیے سلیکٹرز نے مضبوط اور متوازن بھارتی اسکواڈ کا انتخاب کیا ہے۔ شریئس ایئر کو ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے، جبکہ سنجو سیمسن اور جسپریت بمراہ کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈیبیو کے ٹھیک ایک سال بعد بھارتی ٹیم میں جگہ بنانے والے ایشانت نے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی گیند بازی سے متاثر کیا اور جلد ہی ٹیسٹ اور ون ڈے فارمیٹ میں بھارتی تیز گیند بازی کا اہم چہرہ بن گئے۔

بھارت اور افغانستان کے درمیان 13 ستمبر کو ون ڈے سیریز کا پہلا میچ کھیلا جائے گا، جس کے بعد 15 ستمبر کو دوسرا مقابلہ ہوگا۔ سیریز کا تیسرا اور آخری میچ 17 ستمبر کو کھیلا جانا ہے۔ تینوں مقابلے دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں ہوں گے۔

مایہ ناز فٹبالر نے 2006 سے 2026 تک چھ فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کی۔ انہوں نے ورلڈ کپ کے 34 میچوں میں 21 گول کیے اور وہ ٹورنامنٹ کی تاریخ میں دوسرے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ فرانس کے کیلین ایمباپے 22 گول کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔

انگلینڈ کے خلاف چل رہی ٹسٹ سیریزکے آخری مقابلے سے پہلے پاکستانی ٹیم میں کئی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کوچ بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سرفرازخان انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ جڑے رہیں گے، لیکن ان کے چیف کوچ کو ہٹا دیا جائے گا۔

دیپتی شرما نے اس شاندار کارکردگی کے ساتھ بھارت کی جانب سے ٹی20 انٹرنیشنل میں تین یا اس سے زیادہ وکٹیں لیتے ہوئے سب سے بہترین بولنگ اسپیل کا ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا۔ انہوں نے بغیر کوئی رن دیے 3 وکٹیں حاصل کیں۔

جو روٹ ایشیائی ٹیموں کے خلاف سب سے زیادہ فتوحات حاصل کرنے والے انگلش کپتان بن گئے ہیں۔ روٹ کی قیادت میں انگلینڈ نے ایشیائی ٹیموں کے خلاف یہ 15ویں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اس معاملے میں انگلینڈ کے سابق کپتان اینڈریو اسٹراس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔