2028 ٹی20 ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہندوستانی ٹیم مینجمنٹ نے نئی ٹیم تیارکرنے اورنوجوان کھلاڑیوں پرداؤلگانے کی حکمت عملی اپنائی، لیکن ابتدائی نتائج توقعات کے بالکل برعکس سامنے آئے ہیں۔ سوریہ کمار یادو کی جگہ شریس ایئر کو کپتانی سونپنا اورمسلسل نئے کھلاڑیوں پرتجربات کرنا ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوا۔ بھارت پہلے آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 سیریز 0-2 سے ہارا اوراب انگلینڈ کے خلاف بھی چار میچوں کے بعد 0-4 سے پیچھے ہے۔ انگلینڈ نے سیریزمیں ناقابل شکست برتری حاصل کر لی ہے۔ اس پوری سیریزمیں ہندوستانی بلے بازی سب سے بڑی کمزوری بن کرسامنے آئی ہے۔ اگرچہ گیند باز بھی توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکے، لیکن سب سے زیادہ تنقید بلے بازوں پر ہو رہی ہے۔ کئی بلے باز بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اورٹیم مسلسل دباؤ میں دکھائی دی۔ ان میں تین کھلاڑیوں کی کارکردگی سب سے زیادہ مایوس کن رہی۔
ایشان کشن
ٹی20 کرکٹ میں نمبر تین کا بلے باز نہایت اہم کردارادا کرتا ہے۔ اگراوپننگ بلے بازجلد آؤٹ ہو جائیں تو یہی کھلاڑی اننگز کو سنبھالتا ہے۔ لیکن انگلینڈ کے خلاف ایشان کشن اس ذمہ داری کو نہیں نبھا سکے۔ پہلے میچ میں وہ کھاتہ بھی نہیں کھول پائے، دوسرے میچ میں 49 رن ضرور بنائے، لیکن اس کے بعد ان کی کارکردگی مسلسل خراب رہی۔ چاراننگزمیں انہوں نے صرف 66 رن بنائے، جو ان کی صلاحیت کے مطابق کافی نہیں ہیں۔
ویبھو سوریہ ونشی اور سنجو سیمسن
ابھیشیک شرما کے علاوہ بھارت کی جانب سے دوسرا سلامی بلے باز پوری سیریز میں کمزور ثابت ہوا۔ پہلے ٹی20 میں سنجو سیمسن کو موقع ملا، لیکن وہ صرف ایک رن بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد دوسرے، تیسرے اور چوتھے میچ میں 15 سالہ ویبھو سوریہ ونشی کو موقع دیا گیا۔ آئی پی ایل میں شاندار کارکردگی کے بعد ان سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں، لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں وہ اب تک اپنی چھاپ چھوڑنے میں ناکام رہے ہیں۔ تین اننگز میں ان کے بلے سے صرف 42 رنز نکلے، جس کی وجہ سے بھارتی ٹیم کو مضبوط آغاز نہیں مل سکا۔
نائب کپتان تلک ورما
ٹی20 ٹیم کے نائب کپتان تلک ورما سے مڈل آرڈر میں بڑی اننگز کی توقع تھی، لیکن وہ بھی مسلسل جدوجہد کرتے نظرآئے۔ انگلینڈ کے خلاف چار اننگز میں ان کا سب سے بڑا اسکور صرف 24 رنز رہا۔ پوری سیریز میں انہوں نے 17 کی اوسط سے صرف 51 رنز بنائے۔ مڈل آرڈر میں ان کی ناکامی کا اثر پوری بھارتی بلے بازی پر صاف نظر آیا اور ٹیم کسی بھی میچ میں بڑا اسکور کھڑا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ بھارتی ٹیم مینجمنٹ نے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں پر بھروسہ ضرور کیا ہے، لیکن انگلینڈ کے خلاف مسلسل شکست نے اس حکمت عملی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ باقی میچوں میں بھارت واپسی کر پاتا ہے یا نہیں اور آنے والے بڑے ٹورنامنٹس سے پہلے ٹیم مینجمنٹ اپنی حکمت عملی میں کیا تبدیلیاں کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

