Bharat Express DD Free Dish

Vaibhav Sooryavanshi

ٹی20 اور وائٹ بال کرکٹ میں دھوم مچانے کے بعد ویبھَو سوریہ ونشی اب ریڈ بال کرکٹ کے چیلنج کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بچپن کے کوچ نے ان کی تکنیک اور دفاعی صلاحیت پر خصوصی توجہ دی ہے۔

انگلینڈ نے ٹی-20 سیریز میں ہندوستانی ٹیم پر0-3 کی ناقابل تسخیر سبقت بنالی ہے۔ یہاں آپ کو بتاتے ہیں کہ کن تین کھلاڑیوں کو ہندوستان کی شکست کا سب سے بڑا گنہگار مانا جا سکتا ہے۔

کیا ویبھو سوریہ ونشی آج انگلینڈ کے خلاف ٹیم انڈیا کے لیے ڈیبیو کریں گے؟ ان کی انسٹاگرام اسٹوری نے اس حوالے سے قیاس آرائیوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔

ٹی-20 انٹرنیشنل کرکٹ میں ہندوستان کے لئے سب سے تیز نصف سنچری یوراج سنگھ کے نام ہے۔ انہوں نے 2007 ٹی-20 ورلڈ کپ میں 12 گیندوں میں نصف سنچری لگائی تھی۔ ونڈے انٹرنیشنل میں سب سے تیز نصف سنچری لگانے کا ہندوستانی ریکارڈ اجیت اگرکر کے نام ہے۔ انہوں نے سال 2000 میں زمبابوے کے خلاف 21 گیندوں میں 50 رن مکمل کئے تھے۔

بھارت اے اور افغانستان اے کے مقابلے سے قبل نوجوان اوپنر ویبھَو سوریہ ونشی پر سب کی نظریں تھیں، اور انہوں نے ایک بار پھر اپنی جارحانہ بیٹنگ سے توجہ حاصل کر لی۔ دَمبولا میں افغانستان اے کے خلاف انہوں نے صرف 22 گیندوں پر 44 رنز بنائے، جس میں 9 چوکے شامل تھے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 200 رہا۔ اگرچہ وہ نصف سنچری سے چھ رنز دور آؤٹ ہو گئے، لیکن ان کی اننگز نے شائقین کو متاثر کیا۔

ویبھو سوریاونشی کی کامیابی کسی ایک دن کی مرہون منت نہیں بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی محنت اور لگن شامل ہے۔ آئی پی ایل میں ڈیبیو کے بعد انہوں نے اپنی جارحانہ بلے بازی سے سب کو متاثر کیا ہے۔ رواں سیزن میں انہوں نے صرف چار میچوں میں 200 سے زائد رنز اسکور کیے ہیں، جن میں 26 گیندوں پر 78 رنز اور 17 گیندوں پر 52 رنز کی دھواں دھار اننگز شامل ہیں۔

اس جیت کے ساتھ راجستھان رائلز پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست پہنچ گئی ہے، جبکہ ٹیم کے کپتان ریان پراگ کی قیادت میں مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔ دوسری جانب ممبئی انڈینز کو اس سیزن میں مشکلات کا سامنا ہے اور ٹیم پوائنٹس ٹیبل میں نیچے کی پوزیشن پر موجود ہے۔

سوریہ ونشی نے انڈر-19 ورلڈ کپ کے فائنل میں انگلینڈ کے خلاف 80 گیندوں پر 175 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پلیئر آف دی میچ کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ ان کی اننگز میں 15 چوکے اور 15 چھکے شامل تھے۔ انہوں نے صرف 55 گیندوں پر سنچری مکمل کی، جو انڈر-19 ورلڈ کپ کی تاریخ کی تیز ترین سنچریوں میں سے ایک ہے۔ ان کی اس کارکردگی کی بدولت بھارت نے چھٹی بار ورلڈ کپ کا خطاب اپنے نام کیا۔