سابق ہندوستانی کرکٹر ہربھجن سنگھ اتوار کو سن رائزرز حیدرآباد اور راجستھان رائلز کے درمیان آئی پی ایل 2025 کے میچ میں کمنٹری کرتے ہوئے جوفرا آرچر کے حوالے سے ایک تبصرے کے سبب تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہربھجن کے اس تبصرے کو نسلی تبصرہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انھیں اس کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔ واضح رہے کہ انگلینڈ کے تیز گیند باز جوفرا آرچر آئی پی ایل 2025 میں راجستھان رائلز کی ٹیم کا حصہ ہے۔ اتوار کے روز راجستھان کا مقابلہ سن رائزرز حیدرآباد سے تھا۔
راجستھان اور حیدرآباد کے اسی مقابلے کے دوران ہربھجن سنگھ نے بنیادی طور پر جوفرا آرچر کی تیز رفتاری کا موازنہ ’’لندن کی کالی ٹیکسیوں کے میٹر‘‘ سے کیا۔ ہربھجن سنگھ نے میچ کے دوران پہلی اننگز کے اٹھاروہویں اوور میں کمنٹری کرتے ہوئے کہا ’’لندن میں کالی ٹیکسی کا میٹر بہت تیز بھاگتا ہے، آج آرچر صاحب کا میٹر بھی ویسے ہی تیز بھاگا ہے۔ بہت رن خرچ کیے ہیں انھوں نے۔‘‘ ہربھجن کے اس تبصرے کو کئی سوشل میڈیا صارفین نے ’’نسلی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ہربھجن نے ’’کالی ٹیکسی‘‘ کے حوالے سے جوفرا آرچر کے ’’کالے رنگ‘‘ پر نسلی تبصرہ کیا ہے۔ ان سوشل میڈیا صارفین نے ہربھجن مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اس تبصرے کے لیے معافی مانگیں۔ انھوں نے اس تبصرے کی تنقید کرتے ہوئے اسے غیرحساس قرار دیا۔
آئی پی ایل کے ایک سنسنی خیز میچ کے دوران ہوا یہ تبصرہ
تاہم اس تنازعے پر اب تک ہربھجن سنگھ نے نہ کوئی وضاحت پیش کی ہے اور نہ ہی معافی مانگی ہے۔ تاہم یہ تنازعہ ایک سنسنی خیز آئی پی ایل میچ سے زیادہ موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ راجستھان رائلز اور سن رائزرز حیدرآباد کے درمیان کھیلے گئے جس میچ میں یہ تبصرہ کیا گیا، وہ آئی پی ایل کی تاریخ کے سرفہرست ہائی اسکورنگ مقابلوں میں سے ایک تھا۔ ایشان کشن کی سنچری کے ساتھ حیدرآباد نے 286 کا بڑا اسکور کھڑا کر دیا تھا، جس کے جواب میں راجستھان کی ٹیم نے بھی 242 رنز بنا دیے تھے۔ اس کے باوجود راجستھان کو 44 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میچ میں جوفرا آرچر کو بلے بازوں نے بھی خوب نشانہ بنایا اور ان کے چار اوورز میں 76 رنز بنا ڈالے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


