آئی پی ایل کی سابق فرنچائزی کوچی ٹسکرس کیرل اوربی سی سی آئی کے درمیان چل رہی قانونی جنگ میں دنیا کے سب سے امیر کرکٹ بورڈ کو بہت بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے بی سی سی آئی سے کہا ہے کہ وہ کوچی ٹسکرس کو 538 کروڑ روپئے کی ادائیگی کریں۔ جسٹس آرآئی چھاگلا نے بی سی سی آئی کے چیلنج کو خارج کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت ثالث کی ان فائنڈنگزکا دوبارہ جائزہ نہیں لے سکتی، جوشواہد کی درست جانچ پرمبنی تھیں۔
سال 2011 میں بند کردی گئی تھی کوچی ٹسکرس
یہ تنازعہ تب شروع ہوا جب بی سی سی آئی نے 2011 میں فرنچائزی معاہدہ کے تحت ضروری بینک گارنٹی جمع کرنے میں ناکام ہونے کی وجہ سے کوچی ٹسکرس کی فرنچائزی کو بند کردیا۔ کوچی فرنچائزی نے بی سی سی آئی کے اس فیصلے کوغلط بتایا، اس میں اسٹیڈیم کی فراہمی اورآئی پی ایل میچوں کی تعداد میں کمی جیسے موضوعات کا حوالہ دیا گیا۔ فرنچائزی نے کہا کہ مسلسل بات چیت اورادائیگی کے باوجود بی سی سی آئی نے اچانک معاہدہ ختم کردیا اور پہلے ہی دی گئی گارنٹی کو اس نے بھنا لیا۔
اس معاملے میں، 2015 میں، ثالثی ٹریبونل نے کے سی پی ایل کو384 کروڑروپئے، جوکوچی فرنچائزکی مالک ہے، اورآرایس ڈبلیوکو 153 کروڑ روپئے کا انعام دیا تھا۔ بی سی سی آئی نے اس رقم کوچیلنج کیا۔ اب بامبے ہائی کورٹ نے انڈین پارٹنرشپ ایکٹ کے تحت بی سی سی آئی کے اعتراضات کومسترد کردیا ہے اورثالثی کو برقراررکھا ہے۔
کوچی ٹسکرس کی تاریخ
کوچی ٹسکرس کیرل 2011 سیزن کے لئے آئی پی ایل میں شامل کی گئی دو نئی فرنچائزیوں میں سے ایک تھی۔ یہ ٹیم پنے واریئرس کے ساتھ آئی پی ایل میں شامل ہوئی تھی۔ اس ٹیم کی فرنچائزی کا مالکانہ حق کوچی کرکٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ کے پاس تھا، جس کئی کمپنیوں کا ایک کنسورٹیم تھا۔ کوچی ٹسکرس نے صرف ایک سیزن، یعنی 2011 میں کھیلا اوراگلے سال اس کی فرنچائزی ختم کردی گئی۔ اس ٹیم کو رینڈیجوس اسپورٹس ورلڈ نے دوسری سب سے اونچی بولی 333.2 ملین امریکی ڈالر(1533 کروڑ روپئے) میں خریدا تھا۔ تاہم ایک سیزن میں ہی اس ٹیم کوآئی پی ایل سے ہٹا دیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


