Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

اس سے پہلے  ذرائع کے حوالے سے گیا کہا تھا کہ کانگریس اس معاملے پر سیاست کر رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا تھا کہ حکومت نے منموہن سنگھ کی سمارک بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور کانگریس کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

تھوڑی دیر بعد سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسوم ادا کی جارہی ہے۔ ان کی جسد خاکی سرکاری اعزازکے ساتھ نگم بودھ گھاٹ پہنچی، جہاں تمام معززہستیاں موجود رہیں۔ انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے نے جمعہ کو وزیراعظم نریندرمودی کوخط لکھ کرسابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی آخری رسوم ایسے مقام پرادا کرنے کی گزارش کی، جہاں ان کا مسجمہ بنایا جاسکے، لیکن مرکزی حکومت نے ان کے مطالبہ کوخارج کردیا ہے۔ اس سے کانگریس میں ناراضگی ہے۔

سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا مجسمہ بنائے جانے کے تنازعہ کے درمیان مرکزی حکومت نے جمعہ کی رات کو اعلان کیا کہ مرکزی حکومت منموہن سنگھ کا مجسمہ بنوائے گی۔ آئندہ 4-3 دنوں میں مجسمہ کی جگہ طے ہوجائے گی۔ فیملی نے مجسمہ سے متعلق حکومت سے رضا مندی ظاہرکی ہے۔

منموہن سنگھ کوہندوستان میں معاشی اصلاحات کا علمبردارسمجھا جاتا ہے۔ 1991 میں وزیر خزانہ کے طور پر، انہوں نے لبرلائزیشن کے ذریعہ ہندوستان کی معیشت کونئی بلندیوں پر پہنچایا۔ کانگریس نے انہیں راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈربنایا اورانہوں نے بہت بہتراندازمیں اپنی ذمہ داری نبھائی۔

حادثے کے بعد بھٹنڈہ شہر کے ایم ایل اے جگروپ سنگھ گل اسپتال پہنچے۔ انہوں نے اس المناک واقعے میں ہلاک ہونے والوں اور زخمی ہونے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت سے مرنے والوں اور زخمیوں کے لواحقین کی مالی امداد کی درخواست کی۔

تحقیقات کے لیے موقع پر پہنچے شیخ پورہ کے اے ایس پی ڈاکٹر راکیش کمار نے میڈیا کو بتایا، ’’آج صبح تقریباً 9.30 بجے شیوالا تھانہ علاقے میں ایک واقعہ پیش آیا، ہم اہل خانہ سے بات کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک کسی کا نام سامنے نہیں آیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ذاتی دشمنی کا معاملہ ہو سکتا ہے۔

سال 2004 میں یوپی اے کی جیت کے بعد جب سبھی کولگا کہ سونیا گاندھی وزیراعظم بنیں گی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ملک کا وزیراعظم منتخب کیا گیا۔

سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے انتقال کے بعد یوپی کی یوگی حکومت نے بڑا فیصلہ لیا ہے۔ 26 دسمبر 2024 (جمعرات) کی رات ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال میں ہوا۔

گوتم اڈانی کے اے پی ایس ای زیڈ اور کوچین شپ یارڈ کے درمیان معاہدے کے تحت  اڈانی کے کل بیڑے میں 152 جہاز شامل ہوں گے۔