Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گجرات کے گاندھی نگر کے سرکھیج وارڈ میں اجتماعی شجرکاری مہم میں شرکت کرتے ہوئے پودا لگایا۔ اس موقع پر انہوں نے ماحولیات کے تحفظ کا پیغام دیا۔ دوسری جانب انہوں نے دہلی میں بھی ایک خصوصی شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔

بلاگر سورو جوشی نے اپنی اہلیہ کے ساتھ یوٹیوب پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کی کار 16 کا مائلیج دیتی تھی یعنی یہ ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً 17 کلومیٹر کا سفر طے کرتی تھی۔ تاہم، جب سے اس نے E20 پیٹرول استعمال کرنا شروع کیا ہے، پہلے مائلیج 9 تک گر گیا، اور اب یہ کار صرف 5 کلومیٹر فی لیٹر کی رفتار فراہم کر رہی ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی اپیل پر جاری ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے تحت ایمار گومتی گرین ریذیڈنٹ ویلفیئر سوسائٹی (آر ڈبلیو اے) کے زیر اہتمام اور محکمہ جنگلات کے تعاون سے شجرکاری کی ایک خصوصی مہم کا انعقاد کیا گیا۔

ایس جانکی اماں 23 اپریل 1938 کو آندھرا پردیش کے ضلع گنٹور میں پیدا ہوئی تھیں۔ بچپن ہی سے انہیں موسیقی سے غیر معمولی لگاؤ تھا اور کم عمری میں ہی ان کی گائیکی نے سب کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ صرف 18 برس کی عمر میں انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے گائیکی کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی تھی،

اسدالدین اویسی، سلمان خورشید اورمحب اللہ ندوی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک ہی اجلاس میں شریک ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت بھی اس اجلاس کی اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں اورمتعدد مسلم تنظیمیں پہلے بھی یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اوربعض کارروائیاں قانون کے دائرے سے ہٹ کر کی جا رہی ہیں۔

اے پی سی آرنے واضح کیا کہ گرچہ قومی سلامتی اورسرحدی انتظام انتہائی اہم ہیں، تاہم تمام انتظامی اقدامات آئین ہند، قانون کی حکمرانی اورانصاف کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہونے چاہییں۔ تنظیم کے مطابق قومی سلامتی اورشہری حقوق ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کئی اہم قانونی سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ کیا متاثرہ فریقین کوواقعی مؤثرسماعت کا موقع ملا؟

رام پور کے ٹانڈہ-مرادآباد روڈ پر کھڑے ٹرک سے تیز رفتار ایکو کار ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اس حادثے میں تین افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ایس پی نے اسپتال پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی، جبکہ ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

احتجاج کے دوران جمعہ کی دیررات نروتم مشرا کے ایک حامی نے خودسوزی کی کوشش بھی کی، تاہم موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے پٹرول سے بھری بوتل چھین لی، جس کے بعد دیگرحامیوں اورپولیس افسران نے اسے سمجھا بجھا کرمعاملہ ٹھنڈا کر دیا۔ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے نروتم مشرا کے حامیوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ مشرا کو اتوارکوٹکٹ دیا جا سکتا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نالے کا سلیب کافی عرصے سے ٹوٹا ہوا تھا اور اس کی شکایت کئی مرتبہ متعلقہ حکام سے کی گئی تھی، مگر اس کی مرمت نہیں کرائی گئی۔ بارش کے دوران پانی بھر جانے سے ٹوٹا ہوا حصہ مکمل طور پر چھپ گیا، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ایس پی میور کھنڈیلوال نے بتایا کہ جمعہ کی شام تقریباً چھ بجے سے تین ہزار سے زائد افراد شہر میں احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین نے بازار بند کرائے اور این ایچ-44 پر چکہ جام کر دیا۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے کئی مرتبہ شاہراہ خالی کرنے کی اپیل کی، لیکن مظاہرین نے انکار کر دیا۔