ملک میں پانی اور قدرتی آبی وسائل کے تحفظ کی سمت میں مرکزی وزارتِ جل شکتی نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بھارت کی پہلی ’اسپرنگ سینسس‘ یعنی قدرتی چشموں کی مردم شماری کی رپورٹ جاری کی ہے۔ نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ 9ویں انڈیا انٹرنیشنل واٹر ویک 2026 کی اختتامی تقریب کے موقع پر ’فِسٹ سینسس آف اسپرنگس، والیوم II، پارٹ-II‘ جاری کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی 10 ریاستوں میں مجموعی طور پر 14,468 قدرتی چشمے درج کیے گئے ہیں۔ نیتی آیوگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملک کی تقریباً 15 فیصد آبادی، یعنی لگ بھگ 20 کروڑ افراد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اپنی روزمرہ ضروریات، پینے کے پانی اور روزگار کے لیے ان چشموں پر منحصر ہیں۔ اس مردم شماری کا بنیادی مقصد ملک کے قدرتی چشموں کا یکساں معیار پر مبنی، قابلِ اعتماد اور جیو ریفرنسڈ ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ’اسپرنگ شیڈ‘ مینجمنٹ سے متعلق مؤثر پالیسیاں بنائی جا سکیں۔
منی پور میں سب سے زیادہ 3,941 چشمے
سروے میں شامل 10 ریاستوں میں منی پور 3,941 چشموں کے ساتھ پہلے اور مہاراشٹر 3,652 چشموں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
منی پور: ریاست میں 3,419 چشمے دائمی یعنی پورے سال بہنے والے، 457 موسمی اور 65 خشک چشمے پائے گئے۔ ان میں 91.4 فیصد چشمے عوامی ملکیت میں ہیں۔ وسائل کو لاحق خطرے کی بنیاد پر جانچے گئے چشموں میں 1,336 یعنی 34.5 فیصد خطرے کے دہانے پر پائے گئے۔ مقامی دیہاتی 3,127 چشموں، بیرونی افراد 634 اور جنگلی جانور 113 چشموں سے استفادہ کرتے ہیں۔
مہاراشٹر: ریاست میں 2,629 دائمی، 909 موسمی اور 114 خشک چشمے ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں 3,612 دیہی اور 40 شہری علاقوں میں واقع ہیں۔ تقریباً 86.5 فیصد چشمے سرکاری کنٹرول میں ہیں، جبکہ 265 چشمے یعنی 7.6 فیصد خطرے کے دائرے میں پائے گئے۔
اوڈیشہ سے مغربی بنگال تک چشموں کی صورتحال
اوڈیشہ: ریاست میں مجموعی طور پر 1,957 چشمے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 1,568 دائمی، 315 موسمی اور 74 خشک چشمے ہیں۔ ان میں 99.2 فیصد چشمے دیہی علاقوں میں واقع ہیں، جبکہ 295 یعنی 15.7 فیصد چشموں کو ماحولیاتی خطرات کا سامنا ہے۔
مغربی بنگال: یہاں مجموعی طور پر 1,686 چشمے ملے۔ صرف پہاڑی اضلاع دارجلنگ میں 1,200 اور کالمپونگ میں 427 چشمے ریکارڈ کیے گئے۔ یہ چشمے مقامی چائے کے باغات اور قبائلی بستیوں کے لیے پانی کا اہم ذریعہ ہیں۔
گوا اور تریپورہ: ساحلی ریاست گوا میں 1,196 چشمے درج ہوئے، جن میں 1,105 پورے سال بہتے ہیں جبکہ 61 خطرے میں ہیں۔ دوسری جانب شمال مشرقی ریاست تریپورہ میں تمام 1,049 چشمے دیہی علاقوں میں پائے گئے، جہاں دھلائی ضلع میں سب سے زیادہ 398 چشمے ریکارڈ کیے گئے۔
آسام، تلنگانہ، آندھرا پردیش اور راجستھان: آسام میں 792 چشمے ملے، جن میں 41 خطرے میں ہیں۔ تلنگانہ میں 148 چشمے ریکارڈ کیے گئے۔ آندھرا پردیش میں 34 چشمے پائے گئے اور یہ تمام موسمی ہیں۔ وہیں صحرائی ریاست راجستھان میں سب سے کم صرف 13 چشمے ریکارڈ ہوئے، جن میں 8 دائمی اور 5 موسمی ہیں۔
موبائل ایپ کے ذریعے جیو ٹیگنگ اور نگرانی
وزارتِ جل شکتی کے مطابق مالی سال 24-2023 کو بنیاد بنا کر یہ مکمل مردم شماری ڈیجیٹل طریقے سے انجام دی گئی۔ GPS اور اینڈرائیڈ پر مبنی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے زمینی سطح پر ہر چشمے کی جیو ٹیگنگ کی گئی اور مرکزی پورٹل پر اس کا ڈیٹا جمع کیا گیا۔ مرکزی وزیرِ جل شکتی سی. آر. پاٹل نے اپنے پیغام میں کہا کہ پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح بحال کرنے، دریاؤں کے بہاؤ کو برقرار رکھنے اور دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی سلامتی کے لیے چشموں کی بحالی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ ریاستی حکومتوں اور پالیسی سازوں کے لیے مقامی سطح پر آبی تحفظ کے منصوبوں کو عملی شکل دینے کے سلسلے میں ایک بنیادی حوالہ جاتی دستاویز ثابت ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


