Bharat Express DD Free Dish

کٹیہار کی امبیڈکر کالونی پہنچے سابق سی ایل پی لیڈر ڈاکٹر شکیل احمد خان، کہا-’’زمین پر نہیں دکھائی دے رہا مہادلتوں کے بجٹ کا پیسہ‘‘

ڈاکٹر شکیل احمد خان نے مرکز اور بہار حکومت سے سوال کیا کہ مہادلتوں کے نام پر صرف تقریریں کی جائیں گی یا زمین پر بھی کوئی کام ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ بستی میں بچوں کے لیے تعلیم کا مناسب انتظام نہیں ہے اور صفائی ملازمین بھی روزانہ کی ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنے پر مجبور ہیں۔

کٹیہار: کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق سی ایل پی لیڈر ڈاکٹر شکیل احمد خان اور کانگریس کے ضلعی صدر سنجے کمار سنگھ نے کٹیہار کے شہری علاقے میں واقع امبیڈکر کالونی کا دورہ کیا اور بستی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ دونوں لیڈروں نے مقامی باشندوں سے بات چیت کرکے ان کے مسائل سنے۔ بستی کے لوگوں نے بتایا کہ سال 2002 میں تعمیر کیے گئے مکانات اب مکمل طور پر خستہ حال ہوچکے ہیں۔ چھتوں اور دیواروں سے روڑی اور پتھر گرتے رہتے ہیں، جبکہ نکاسیٔ آب کے لیے نالے اور پکی سڑک تک کا انتظام نہیں ہے۔

چھت گرنے کے خوف سے ٹین شیڈ میں رہنے کو مجبور خاندان

بستی کی بدحالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر شکیل احمد خان نے کہا کہ معاشرے کے سب سے نچلے طبقے میں شمار ہونے والے لوگ انتہائی خراب حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال 2002 میں تعمیر کی گئی اس کالونی کے کمیونٹی ہال، اسکول اور مکانات سمیت تقریباً تمام بنیادی ڈھانچے خستہ حال ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھت گرنے کے خوف سے لوگوں نے اپنے طور پر چھوٹے چھوٹے ٹین کے گھر بنا لیے ہیں۔ کمیونٹی ہال کی کھڑکیاں غائب ہیں اور بیت الخلا کی بھی کوئی مناسب سہولت نہیں ہے۔ مقامی رہائشی گیتا دیوی نے بتایا کہ سرکاری سطح پر ملے کمروں کی چھتیں اس قدر خستہ ہوچکی ہیں کہ اکثر سیمنٹ اور روڑی کے ٹکڑے نیچے گرتے رہتے ہیں۔ اس وجہ سے بچوں کے زخمی ہونے کا خوف بنا رہتا ہے۔ اسی خوف کے باعث لوگ پکے مکانات چھوڑ کر ٹین کی جھونپڑیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

’مہادلتوں کے نام پر صرف تقریریں ہوں گی یا کام بھی؟‘

ڈاکٹر شکیل احمد خان نے مرکز اور بہار حکومت سے سوال کیا کہ مہادلتوں کے نام پر صرف تقریریں کی جائیں گی یا زمین پر بھی کوئی کام ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ بستی میں بچوں کے لیے تعلیم کا مناسب انتظام نہیں ہے اور صفائی ملازمین بھی روزانہ کی ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں میں غذائی قلت کی شرح بہت زیادہ ہے، جس کی بنیادی وجہ غربت ہے۔ بہار حکومت سے براہِ راست سوال کرتے ہوئے ڈاکٹر خان نے کہا کہ مہادلتوں کے نام پر بجٹ میں جتنی رقم مختص کی جاتی ہے، وہ زمین پر نظر کیوں نہیں آتی؟ انہوں نے کہا کہ ذات اور مذہب کے نام پر اقتدار حاصل کرنا آسان ہے، لیکن لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شہر میں نالے کی تعمیر کے نام پر 250 کروڑ روپے آنے کے باوجود کام اب بھی ادھورا پڑا ہے۔

بارش میں کمر تک پانی، مکانوں میں دراڑیں

مقامی رہائشی اشوک راؤت نے بتایا کہ مکانات کی دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور کسی بھی وقت حادثہ پیش آنے کا خدشہ رہتا ہے۔ مزدوری کرکے زندگی گزارنے والے لوگ اپنے خرچ پر مکانات کی مرمت کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ مقامی باشندوں کے مطابق بارش کے موسم میں بستی میں کمر تک پانی بھر جاتا ہے، جس سے صورتحال انتہائی خراب ہوجاتی ہے۔ لوگوں نے خستہ حال عمارتوں کی مرمت اور پکے نالے کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔

ٹھیکیداری نظام میں پس رہے صفائی ملازمین

سابق سی ایل پی لیڈر نے صفائی ملازمین کی سماجی اور معاشی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی صفائی کی ذمہ داری نبھانے والے صفائی ملازمین مستقل نظام کے بجائے ٹھیکیداری نظام میں پس رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے سرکاری نظام کے تحت انہیں مقررہ معاوضہ اور کچھ سہولتیں ملتی تھیں، لیکن اب ٹھیکیداری نظام کی وجہ سے ان کی معاشی حالت مزید غیر مستحکم ہوگئی ہے۔ خاندانوں میں شدید غربت کے باعث بچے غذائی قلت کا شکار ہو رہے ہیں اور تعلیم سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر شکیل احمد خان نے کہا کہ اس طبقے کے پاس نہ آبائی زمین ہے، نہ خاندانی ملازمت اور نہ ہی کوئی موروثی دولت۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر سرکاری نظام ہی کمزور ہوجائے گا تو اس محروم طبقے کی زندگی کیسے بہتر ہوگی؟

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔