Bharat Express DD Free Dish

Katihar

ڈاکٹر شکیل احمد خان نے مرکز اور بہار حکومت سے سوال کیا کہ مہادلتوں کے نام پر صرف تقریریں کی جائیں گی یا زمین پر بھی کوئی کام ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ بستی میں بچوں کے لیے تعلیم کا مناسب انتظام نہیں ہے اور صفائی ملازمین بھی روزانہ کی ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنے پر مجبور ہیں۔

مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ پولیس حکام کے مطابق زخمیوں میں کئی کی حالت نازک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

10 جنوری 2026 کو الکریم یونیورسٹی، کٹیہار میں چوتھے کنوکیشن پروگرام  کا انعقاد شاندار انداز میں کیا گیا۔ اس موقع پر بہار کے  گورنر، عارف محمد خان مہمانِ خصوصی کے طور پر موجود تھے، جبکہ دیگر معزز مہمانوں میں شامل تھے

تقسیمِ اسناد کی تقریب کے موقع پر یونیورسٹی کی جانب سے طبی تعلیم اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم کے طور پر ماڈیولر آپریشن تھیٹر کمپلیکس کا افتتاح بھی کیا جائے گا۔ اس کا افتتاح صبح 10:00 بجے حاجی احمد کریم رحمانی میڈیکل بلاک (تیسری منزل) میں ہوگا۔

تیجسوی یادو نے کٹیہار کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تعلیم اور دوا کے انتظامات ٹھیک نہیں ہیں اور نہ ہی روزگار کے کافی مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن کی حکومت ان تمام مسائل کو حل کرنے کا کام کرے گی۔

شراب کاروباری کو پولیس کی گرفت سے چھڑانے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور لاٹھیوں سے لیس تھانے کے احاطے میں پہنچ گئے۔ یہاں لوگوں نے زبردست ہنگامہ آرائی کی اور توڑ پھوڑ کی۔ اس دوران جب پولیس نے چارج سنبھالا تو لوگ مزید پرتشدد ہوگئے اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کردیا۔

مکیش سہنی نے کہا کہ ہم  دو بھائیوں کو آپس میں کیسے لڑانا ہے ، ہندو اور مسلمانوں کے درمیان لڑوائی کروانی ہے، وہ نفرت پھیلاتے ہیں تاکہ ہم کٹ کر مر جائیں۔