Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا ’’یہ بل جس نے اب قانونی حیثیت حاصل کر لی ہے، مذہبی امتیازاورجانبداریت پرمبنی ہے، اسے اقلیتی حقوق کے لیے ایک سیاہ باب کے طور پر جانا جائے گا۔ یہ قانون ملک میں مذہبی آزادی اور آئینی حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ اتر پردیش میں جو ہو رہا ہے، وہ سراسر غلط ہے۔ روزانہ دیوانی مقدمات کو مجرمانہ مقدمات میں بدلا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے رویہ پر عدالت عظمیٰ نے سخت تبصرہ کرنے کے ساتھ ہی آئندہ اس طرح کے معاملے سامنے آنے پر جرمانہ لگانے کی تنبیہ بھی کی۔

منی پور کے تھوبل ضلع میں ایک ہجوم نے اتوار کی رات وقف ترمیمی بل کی حمایت میں سوشل میڈیا پوسٹ کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر کے گھر کو آگ لگا دی۔

جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر نے کہا کہ وقف قانون کا معاملہ عدالت میں زیر غور ہے، اس لیے اس پر بحث نہیں ہو سکتی۔ نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی نے اس قانون کے خلاف ایوان میں نعرہ بازی بھی کی۔

ملک کی سماجی ترقی کے مطابق GeM نے اسٹارٹ اپس کو شفاف طریقے سے آرڈر پورا کرنے کے قابل بنایا ہے۔

اڈانی فاؤنڈیشن فی الحال 19 ریاستوں کے 6,769 گاؤں میں کام کر رہی ہے، جس نے 9.1 ملین لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اوقاف کا تحفظ ہمارامذہبی فریضہ ہے. رٹ پٹیشن میں نوٹیفیکشن جاری کرنے سے روکنے کے لئے عبوری ہدایت جاری کرنے کی بھی درخواست خون کے آخری قطرہ تک آئین کی بالادستی، سیکولرازم ،جمہوریت اوراوقاف کے تحفظ کے لئے قانونی اور جمہوری خون کے آخری قطرہ تک آئین کی بالادستی، سیکولرازم، جمہوریت اوراوقاف کے تحفظ کے لئے قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے.

وقف ترمیمی بل 2025 پر گھنٹوں کی بحث کے بعد اسے 2 اپریل کو لوک سبھا اور 3 اپریل کو راجیہ سبھا میں پاس کیا گیا تھا۔ اس کے بعد صدر دروپدی مرمو نے بھی اس بل کو اپنی منظوری دے دی ہے۔ تب سے اس وقف ترمیمی بل 2025 نے قانون کی شکل اختیار کر لی ہے۔

محکمہ موسمیات نے گجرات کے بعض علاقوں میں 6 سے 10 اپریل تک گرمی کی لہر کی وارننگ دی ہے۔ خاص طور پر سوراشٹرا اور کچھ کے علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

پولیس اسٹیشن صدر راج پورہ کے ڈی ایس پی رشیندر سنگھ نے کہا کہ واقعہ کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ پولیس معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہو گئی ہے اور قصورواروں کو جلد سے جلد سزا دلانے کا بھروسہ دلایا ہے۔