Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

ملک کی سماجی ترقی کے مطابق GeM نے اسٹارٹ اپس کو شفاف طریقے سے آرڈر پورا کرنے کے قابل بنایا ہے۔

اڈانی فاؤنڈیشن فی الحال 19 ریاستوں کے 6,769 گاؤں میں کام کر رہی ہے، جس نے 9.1 ملین لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اوقاف کا تحفظ ہمارامذہبی فریضہ ہے. رٹ پٹیشن میں نوٹیفیکشن جاری کرنے سے روکنے کے لئے عبوری ہدایت جاری کرنے کی بھی درخواست خون کے آخری قطرہ تک آئین کی بالادستی، سیکولرازم ،جمہوریت اوراوقاف کے تحفظ کے لئے قانونی اور جمہوری خون کے آخری قطرہ تک آئین کی بالادستی، سیکولرازم، جمہوریت اوراوقاف کے تحفظ کے لئے قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے.

وقف ترمیمی بل 2025 پر گھنٹوں کی بحث کے بعد اسے 2 اپریل کو لوک سبھا اور 3 اپریل کو راجیہ سبھا میں پاس کیا گیا تھا۔ اس کے بعد صدر دروپدی مرمو نے بھی اس بل کو اپنی منظوری دے دی ہے۔ تب سے اس وقف ترمیمی بل 2025 نے قانون کی شکل اختیار کر لی ہے۔

محکمہ موسمیات نے گجرات کے بعض علاقوں میں 6 سے 10 اپریل تک گرمی کی لہر کی وارننگ دی ہے۔ خاص طور پر سوراشٹرا اور کچھ کے علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

پولیس اسٹیشن صدر راج پورہ کے ڈی ایس پی رشیندر سنگھ نے کہا کہ واقعہ کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ پولیس معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہو گئی ہے اور قصورواروں کو جلد سے جلد سزا دلانے کا بھروسہ دلایا ہے۔

عرفان انصاری نے وقف ترمیمی بل کو مسلمانوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے کسی قیمت پر جھارکھنڈ میں نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر کانگریس کا شکریہ بھی ادا کیا

4 اپریل کو دمکا صدر بلاک کے سرووا گاؤں میں، رنجیت کمار نامی بی ٹیک کے طالب علم کو بچہ چور ہونے کے شبہ میں لوگوں نے درخت سے باندھ کر پیٹا۔ پولیس نے اسے بھی رہا کرایا۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ وہ دمکا شہر کا رہنے والا تھا۔ رنجیت نشے کی وجہ سے تھوڑا سا غیر معمولی برتاؤ کر رہا تھا۔ اس کی وجہ سے یہ افواہ پھیلی کہ وہ بچہ چور ہے۔

وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ہونے کے بعد اب قانون بھی بن گیا ہے۔ اسے صدرجمہوریہ کی منظوری مل گئی ہے۔ راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 128 ووٹ اور خلاف میں 95 ووٹ پڑے تھے۔ لوک سبھا میں اس کے حق میں 288 اور اپوزیشن میں 232 ووٹ پڑے تھے۔ دونوں ایوانوں میں اپوزیشن پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا کہ ’’پرانے اور بے کار کورسز بند کر کے نئے اور جدید کورسز شروع کیے جائیں۔ یہ کورسز ایسے ہونے چاہئیں جن کی جاب مارکیٹ میں مانگ ہو، تاکہ طلبہ آسانی سے نوکری حاصل کر سکیں۔‘‘