Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

پولیس کے مطابق پورے معاملے کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کو اسکین کیا جا رہا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ کشیدہ ماحول کے پیش نظر پولیس نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ پولیس کے مطابق لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

آل انڈیا امام آرگنائزیشن کا ایک اہم اجلاس جمعرات کودہلی کے ہریانہ بھون میں ہورہا ہے، جس میں آرایس ایس اوربی جے پی کے سینئرلیڈربھی شرکت کریں گے۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد ملک بھرکے اماموں کے درمیان اتحاد اورتعاون کوفروغ دینا، مذہبی اورسماجی مسائل پررہنمائی فراہم کرنا اوربین المذاہب مکالمے کو تقویت دینا ہے۔ اس میٹنگ میں سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کی بھی شرکت متوقع ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے ووٹرلسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) میں بڑے پیمانے پربے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے آرجے ڈی لیڈرتیجسوی یادونے الیکشن کمیشن پربی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دی ہے اورعوام کی رائے جاننے کی بات کہی ہے۔

مسجد میں غیرمسلم بھائیوں کے جانے پر کسی طرح کی پابندی نہیں ہے، لیکن اکھلیش یادو کی اہلیہ ڈمپل یادو کے سرپرڈوپٹہ نہیں تھا، اس وجہ سے اس تنازعہ کو مزید ہوا ملنے لگی۔ بہرحال اس معاملے پر جم کر سیاست ہو رہی ہے۔

بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدرجمال صدیقی کا کہنا ہے کہ یا تومسجد کے امام مولانا محب اللہ ندوی عوام سے معافی مانگیں اوراپنی غلطی کا اعتراف کریں، ورنہ جمعہ کے روز 25 جولائی کوبعد نمازجمعہ بی جے پی اقلیتی مورچہ کے لیڈران کی میٹنگ منعقد کی جائے گی۔

اجیت پوارکی سربراہی والی این سی پی کے قومی جنرل سکرٹیری، اقلیتی ونگ کے سربراہ ایڈوکیٹ سید جلال الدین نے بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ تاریخی ہے اوراس فیصلہ نے ایک بارپھرعدلیہ پر لوگوں کے اعتماد کومضبوط کیا ہے۔

مرکزی وزیر صحت اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو بھی امت شاہ کے ساتھ اس میٹنگ میں موجود تھے۔

جگدیپ دھنکھڑنے اچانک راشٹرپتی بھون پہنچ کرپروٹوکول کو توڑتے ہوئے استعفیٰ سونپا، جسے صدرجمہوریہ نے منظورکرلیا۔ استعفیٰ کے بعد سیاسی ہلچل تیزہوگئی ہے اورپارلیمنٹ میں اپوزیشن ہنگامے کا دورجاری ہے۔

دہلی اور این سی آر میں تیز بارش نے ایک طرف موسم کو خوشگوار بنا دیا، وہیں ٹریفک جام اور آبی جمع شہریوں کے لیے مصیبت کا سبب بن گئے۔ محکمہ موسمیات نے مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے، اس لیے عوام کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے بچنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کانکنی کی وجہ سے پہلے بھی کئی حادثات ہوچکے ہیں لیکن کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ اس بار حادثے نے نظام کی ناکامی کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کے کام کی صورتحال ابھی واضح نہیں ہے۔