‘Steady as she goes’: How the economy looks and feels: مستحکم رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، معیشت کیسی نظر آتی ہے اور کیسا محسوس ہوتا ہے
وزارت کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ عالمی کساد بازاری بھارت کی برآمدات کی طلب کو مزید کم کر سکتی ہے اور امریکی ٹیرف سے جڑی غیر یقینی صورتحال آنے والی سہ ماہیوں میں ملک کی تجارتی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
RBI’s digital payments index increases to 493.22 as of March 2025: آر بی آئی کا ڈیجیٹل ادائیگی انڈیکس مارچ 2025 تک بڑھ کر 493.22 پار پہنچ گیا
ڈیجیٹل پیمنٹ انڈیکس (DPI) ایک جامع انڈیکس ہے جو بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگی کی رسائی، قبولیت اور استعمال کی پیمائش کرتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر تین زمروں کی بنیاد پر جائزہ لیا جاتا ہے:
India Inc’s Q1 revenue growth estimated at 4-6 pc: Crisil Intelligence: بھارتی کمپنیوں کی پہلی سہ ماہی کی آمدنی میں 4 سے 6 فیصد اضافے کا اندازہ: کرسل انٹیلیجنس
کرسل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر پُشن شرما نے کہا: "مانسون کے جلد آنے اور جیوپولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے اپریل تا جون کے دوران بعض شعبوں پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے۔"
Digital payments rise 10.7 pc at end-March 2025: RBI data آر بی آئی ڈیجیٹل پیمنٹس انڈیکس مارچ 2025 میں 10.7 فیصد سے زائد کا ہوا اضافہ
صرف چھ سالوں میں 65,000 کروڑ سے زائد ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز، جن کی مالیت 12,000 لاکھ کروڑ سے زائد ہے، اس بات کا مظہر ہیں کہ ہم کتنی دور آ چکے ہیں۔ لیکن ابھی ہم نے صرف شروعات کی ہے۔
Finance ministry data shows inflation at six-year low, jobs and trade stable: وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی چھ سال کی کم ترین سطح پر، نوکریاں اور تجارت مستحکم
یہ حوصلہ افزا گھریلو منظرنامہ ایک غیر یقینی عالمی ماحول کے پس منظر میں ابھرا ہے، جو بلند اشیاء قیمتوں، بیرونی طلب میں عدم توازن، اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
Tremendous growth in digital payments in India: Over 65,000 crore transactions in 6 years: ڈیجیٹل ادائیگیوں میں زبردست اضافہ، 6 سالوں میں 12,000 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے 65,000 کروڑ سے زائد ڈیجیٹل لین دین
بھارتی ریزرو بینک نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی ترقی کو ناپنے کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ انڈیکس (RBI-DPI) تیار کیا ہے، جو ہر چھ ماہ بعد شائع ہوتا ہے۔
پاکستان کے DGMO نے فون کرکے کہا- پلیز حملے روک دو… وزیراعظم مودی نے پارلیمنٹ میں بتائی حقیقت
وزیر اعظم مودی نے لوک سبھا میں بتایا کہ جنگ بندی کیسے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ڈی جی ایم اونے فون کرکے اپیل کی تھی۔ ڈی جی ایم اونے کہا- بس کرو، بہت ہوگیا ہے۔ پاکستان گھٹنوں کے بل آنے پرمجبورہو گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی ملک نے بھارت کوکارروائی سے نہیں روکا۔
Rahul Gandhi on Operation Sindoor: پاکستان کو جانکاری کیوں دی؟ حکومت کے پاس لڑنے کی ہمت نہیں تھی… راہل گاندھی نے مودی حکومت پر بولا بڑا حملہ
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں آپریشن سندور پربحث میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ میں آپریشن سندورکی وزیردفاع کی تقریرسن رہا تھا۔ انہوں نے وقت بتاتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور22 منٹ میں مکمل ہوا۔ اس کے بعد ہم نے پاکستان کوبتایا کہ ہم نے فوجی ٹھکانوں کونشانہ بنایا ہے۔ کیا یہ وزیر دفاع کے الفاظ ہونے چاہئیں؟ یہ کیسی قوت ارادی ہے؟ اس حکومت میں لڑنے کی طاقت نہیں تھی۔
بی جے پی صدرجے پی نڈا نے’مینٹل بیلنس‘ کہنے پرراجیہ سبھا میں کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے سے مانگی معافی، کہا- میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں
آپریشن سندورپربحث کے دوران پارلیمنٹ میں ایک لمحہ ایسا آیا، جب جے پی نڈا کو معافی مانگنی پڑی۔ سینئر رکن پارلیمنٹ اور کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے کے بولنے کے بعد جے پی نڈا بولنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ وہ وزیراعظم مودی کے لئے کھڑگے کے استعمال کردہ الفاظ پرسوال اٹھا رہے تھے۔ پھر انہوں نے ایسی بات کہہ دی، جس سے ایوان میں ہنگامہ مچ ہوگیا۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے پرپرینکا گاندھی نے حکومت کو گھیرا، کہا- ”لوگوں کو بھگوان بھروسے چھوڑ دیا….“
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں آج دوسرے دن بھی آپریشن سندورپربحث ہورہی ہے۔ اس دوران کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے مرکزی حکومت کوگھیرا۔ تاہم، جب انہوں نے پہلگام میں مارے گئے لوگوں کوہندوستانی قراردیا تولوک سبھا میں حکمراں جماعت کی طرف سے ہنگامہ ہوا۔





