Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

تقریباً 500 سے زائد شرکاء نے اس ورکشاپ میں حصہ لیا، جن میں نوجوان، ملازمت پیشہ افراد، گھریلو خواتین اور بزرگ شہری شامل تھے۔ یہ ورکشاپ نہ صرف ذہنی صحت کے تئیں بیداری کا پیغام ہے بلکہ ایک خودشناسی کا سفر بھی ہے، جو ہندوستانی معاشرے کے لیے ایک مثبت سمت کا تعین کرتا ہے۔

خالص ریشم سے بنی ان راکھیوں کو وزیراعظم مودی، وزیراعلیٰ پشکر دھامی اور وزیر زراعت گنیش جوشی کو بھیجنا ایک علامتی اقدام ہے، جس کے ذریعے گروپ نے نہ صرف اپنی محنت کا اعتراف چاہا بلکہ ایک مضبوط اور خود کفیل بھارت کے خواب میں اپنی شراکت بھی ظاہر کی۔

ایس ڈی ایم دنیش نکنج کے مطابق ’’فی الحال بچوں، اساتذہ اور اہل خانہ کے بیانات درج کیے جا چکے ہیں۔ اپنی مدد آپ گروپ (سیلف ہیلپ گروپ) کی خواتین سے بھی جلد پوچھ تاچھ ہوگی۔ جانچ کے بعد سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘

مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے ہفتہ کے روز رائے گڑھ میں ڈانس بار کی بڑھتی ہوئی تعداد پر سخت تنقید کی۔ راج ٹھاکرے شیتکاری کامگار پارٹی کے سالانہ پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔

پیٹرولیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ روس سے خام تیل کی خریداری مکمل طور پر بند کرنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ تمام ممالک اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے لیتے ہیں۔

بارش نے اگرچہ گرمی سے راحت دی، لیکن سڑکوں پر جگہ جگہ پانی جمع ہونے اور ٹریفک جام نے روزمرہ زندگی کو تھوڑا مشکل ضرور بنا دیا ہے۔

یہ تنازعہ اب محض ایک فہرست یا ایک نام کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ انتخابی شفافیت اور جمہوریت پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کیا واقعی بہار میں لاکھوں ووٹ حذف کیے گئے؟ یا یہ صرف سیاسی شور ہے؟ الیکشن کمیشن اور تیجسوی یادو کے بیانات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اس عمل نے غریب، اقلیتی اورپناہ گزیں آبادیوں خاص طورپرسیمانچل جیسے پس ماندہ علاقوں کے رہنے والے افراد کو سنگین مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف انتخابی قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کی ان ہدایات کو بھی نظر انداز کرتا ہے جس میں شناختی دستاویزات کی فہرست کا دائرہ بڑھانے اور اس میں آدھار، راشن کارڈ وغیرہ کو تسلیم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

ممبئی میں درج ہونے والی یہ ایف آئی آر ایک نئی قانونی اور سماجی بحث کا آغاز کر چکی ہے کہ کیا عوامی مقامات پر پرندوں کو دانہ ڈالنا جرم ہونا چاہیے؟ یا یہ کہ شہری نظم و نسق اور صحت عامہ کے لیے ایسے جذباتی عمل پر بھی سختی ضروری ہے؟

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں خواتین کی سلامتی کے مسائل پر بحث جاری ہے اور حکومتیں خواتین کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دے رہی ہیں۔ تاہم، ایسے پوسٹرز یہ سوال کھڑا کرتے ہیں کہ کیا سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے ذمہ داری عام شہریوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں؟