Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

بہار اسمبلی انتخابات 2025 سے قبل ریاست کا سیاسی ماحول تیزی سے گرم ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں نوجوان نعرہ لگاتے نظر آ رہے ہیں، ”ہمیں منگل راج چاہیے، جنگل راج نہیں!“ یہ نعرہ بہار کے سیاسی منظرنامے میں نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔

سیوان کے دروندا تھانہ علاقے میں تعینات اے ایس آئی انیرودھ کمار کا بدھ کی رات تیز دھار ہتھیار سے قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش بساؤں نوکا ٹولا سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت کے پاس بلیو اکانومی کی ترقی کے لیے ایک بلند عزم اور جامع وژن ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے سرمایہ کار بھارت میں سرمایہ کاری کریں، کیونکہ یہ ملک سرمایہ کاری کے لیے سب سے موزوں مقام بن چکا ہے۔

نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھاکرشنن نے سماجی پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی والدہ کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ”آج تریپور میں اپنی والدہ کے آشیرواد حاصل کرنے کا لمحہ نصیب ہوا “۔ تصویر میں ان کی والدہ کو بیٹے کو دعائیں دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

جیسے ہی ایم ایل اے ویل میں آنے لگے ، بی جے پی اور نیشنل کانفرنس (این سی) کے ایم ایل ایز کے درمیان نوک جھونک اور  ہاتھا پائی شروع ہوگی ،

باہری دہلی کے بھرت نگر تھانہ علاقے میں چند روز قبل تیزاب حملے کا ایک معاملہ سامنے آیا تھا، جو اب فرضی ثابت ہوا ہے۔ دراصل، دہلی یونیورسٹی سے ڈسٹنس لرننگ کرنے والی ایک طالبہ نے خود پر تیزاب حملے کا جھوٹا ڈرامہ رچایا تھا۔

وزیر اعظم مودی نے بہار کے چھپرا میں جمعرات کو ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل پر زبردست حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس دراصل راجد کو کمزور کرنے کی کوشش میں ہے، اسی لیے اس نے بہار کے خلاف بیانات دینے والے لیڈروں کو ریاست کی انتخابی مہم میں اتارا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو بہار کے مظفرپور میں ایک بڑی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس پر زبردست سیاسی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں جماعتوں کی پہچان پانچ الفاظ میں سمائی ہوئی ہے — ’’کٹّہ، ظلم و بربریت، کڑواہٹ، بدانتظامی اور کرپشن‘‘۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر کا آغاز مظفرپور کی مشہور لیچی کی مٹھاس سے کیا اور مسکراتے ہوئے کہا کہ “مظفرپور کی لیچی جتنی میٹھی ہے، اتنی ہی میٹھی یہاں کی عوام کی بولی ہے۔ آپ سب کا یہ پیار دیکھ کر دل خوش ہو گیا“۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی کوئی وجہ نہ تو تحریری طور پر اور نہ ہی زبانی طور پر بتائی گئی۔ ان کے مطابق  زمین اور حقوق جیسے موضوعات پر گفتگو سے حکومت کو ناگواری محسوس ہوئی ہوگی۔