Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

پاکستان اس وقت شدید خوف اور بے یقینی کے ماحول میں جی رہا ہے، جہاں خود پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف بار بار بھارت کے ممکنہ حملے کا خطرہ ظاہر کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دہلی اور جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات کے بعد پاکستانی وزیر دفاع کے بیانات مسلسل سامنے آ رہے ہیں جن میں انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے اور اس حوالے سے پاکستان مکمل الرٹ پر ہے۔

وزیراعظم مودی نے جمعہ کے روز کاشی ایم پی اسپورٹس کے تمام فاتحین اور شرکاء کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک تمناؤں کا پیغام دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان شرکاء کا جوش و خروش اور حوصلہ واقعی قابل تعریف تھا اور انہوں نے اپنی صلاحیت اور مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا۔

بھارت میں مضبوط ملکی اقتصادی ترقی، بڑھتی ہوئی  شہرکاری اور مسلسل انفراسٹرکچر کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ ہے کہ 2025 سے 2026 تک ہر سال غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کار 5 سے 7 ارب ڈالر اس شعبے میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

گلوبل ٹیک پالیسی کنفیڈریشن (جی ٹی پی سی) نے ہوٹل تاج ایمبیسیڈر، نئی دہلی میں ’’بھارت ٹیک سمٹ اینڈ ایوارڈ 2025 ‘‘  کا انعقاد کیا۔ یہ ایونٹ صنعت، حکومت، تجارتی اداروں اور علمی شعبے کے شراکت داروں کے تعاون سے منعقد ہوا، جس کا مقصد بھارت کی ڈیجیٹل ترقی اور عالمی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔

دہلی حکومت کے محکمہ تعلیم اور ڈائریکٹوریٹ آف اسپورٹس نے اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں ہونے والے تمام قسم کے جسمانی کھیلوں کے مقابلوں کو معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

شوریا کی موت کے بعد 20 اور 21 نومبر کو خاندان کے افراد، طلباء اور والدین نے اسکول کے گیٹ پر احتجاج کیا۔ بینرز پر لکھا ، اساتذہ نے میرے بیٹے کو مار ڈالا،

متعدد ریاستوں میں سردی اور کہرے میں اضافہ ہو گیا ہے۔ محکمۂ موسمیات نے آئندہ دنوں کے لیے شدید سردی اور شدید کہرے کی وارننگ جاری کی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں برف باری کا بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے باعث سمندر کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے سمندر میں موجود سمندری گھاس کے میدان مسلسل تباہ ہو رہے ہیں۔ اگر اس معاملے میں مضبوط اور فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک کچھ اقسام کی سمندری گھاس ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی۔

ان واقعات سے پیدا ہونے والے بے چینی کے ماحول پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مجرمانہ کارروائیوں کو انجام دینے والے بہت کم ہیں اور وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔

اگر آپ پر چھت گر جائے یا قریبی عمارت گر جائے تو اپنے منہ اور ناک کو کپڑے، اسکارف یا رومال سے ڈھانپ لیں۔ اگر آپ زلزلے کے دوران سڑک پر ہیں، تو کسی کھلے علاقے میں جانے کی کوشش کریں