Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

آج 18 اپریل کو ملک کے موسم میں ایک انوکھا تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک طرف اتر پردیش کا باندا 45.4 ڈگری سیلسیس کے ساتھ آگ برسا رہا ہے، تو دوسری طرف مغربی ہواؤں کے اثر سے دہلی-این سی آر میں اچانک بارش نے درجہ حرارت کو 10 ڈگری تک گرا دیا ہے۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بل کے مسترد ہونے کے فوراً بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور حکمراں جماعت و اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کی توہین ہے اور اس کے سیاسی نتائج دور رس ہوں گے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ بعض حلقوں میں ووٹروں کی تعداد 49 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جو جمہوری نظام کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق ایک ہی رکن پارلیمنٹ کے لیے اتنی بڑی تعداد کے ووٹروں کی نمائندگی کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے، جس سے عوامی مسائل کو مؤثر طریقے سے ایوان تک پہنچانا ممکن نہیں رہتا۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ 2026 کی مردم شماری ذات (کاسٹ) کی بنیاد پر بھی کرائی جائے گی۔

لوک سبھا کے اجلاس میں خواتین ریزرویشن بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن، خصوصاً کانگریس اور انڈیا اتحاد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن مختلف بہانوں کے ذریعے خواتین ریزرویشن کی مخالفت کر رہی ہے اور درحقیقت وہ اس قانون کے نفاذ کے بجائے اس کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔

لوک سبھا کے خصوصی اجلاس میں تین اہم بلوں پر ووٹنگ سے عین قبل ایوان کا ماحول اس وقت گرما گیا جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے درمیان غازی آباد کے ووٹر ڈیٹا کو لے کر شدید بحث چھڑ گئی۔ یہ بحث نہ صرف اعداد و شمار تک محدود رہی بلکہ ملک میں نئی حدبندی (ڈی لمیٹیشن) کی ضرورت پر بھی مرکوز ہو گئی۔

حکام کے مطابق کاجل مینا ضلع کرولی کے نادوتی سب ڈویژن میں بطور ایس ڈی ایم تعینات تھیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ رشوت کی رقم اپنے ریڈر دنیش کمار سینی اور سینئر اسسٹنٹ پروین دھاکڑ کے ذریعے وصول کر رہی تھیں۔ اے سی بی کی ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے کے بعد اس پورے معاملے کی نگرانی کی اور منصوبہ بندی کے تحت کارروائی انجام دی۔

وفد نے ناسک کے کمشنرآف پولیس کو ایک باضابطہ میمورنڈم بھی پیش کیا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس معاملے کی تفتیش مکمل غیر جانبداری، شفافیت اور قانون کے مطابق انجام دی جائے۔ مزید برآں، اے پی سی آرکے نمائندے ناسک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنزکورٹ میں ریمانڈ کی کارروائی کے دوران بھی موجود رہے تاکہ عدالتی عمل کا براہ راست مشاہدہ کیا جا سکے۔

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبینچ نے کانگریس لیڈرراہل گاندھی کے خلاف دوہری شہریت کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی جسٹس سبھاش ودیارتھی کی ہدایت پرکی جائے گی۔ عدالت نے معاملے کی تحقیقات کے بعد مزید قانونی کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے۔