Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

 مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس لیڈر کمل ناتھ نے آج تمام قیاس آرائیوں پر بیک لگا دیا ہے۔ ان کے بی جے میں جانے کی قیاس آرائیاں تھیں۔

کوٹہ میں جہاں طرف طالب علموں کی خودکشی کے واقعات میں کمی آئی ہیں، وہیں اب ان کے لاپتہ ہونے کا رجحان شروع ہو گیا ہے۔ حال ہی میں دو طالب علم لاپتہ ہو گئے ہیں اور پولیس کو ابھی تک اس معاملہ میں کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ کے قریبی لیڈر منوج مالوے نے کہا کہ انہوں نے پوری زندگی بی جے پی کے خلاف لڑائی لڑی ہے۔ اب وہ اوران کے بیٹے نکل ناتھ اچانک کانگریس کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔

پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے انڈیا الائنس کے ساتھ الیکشن لڑنے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی جموں وکشمیر میں اکیلے الیکشن لڑے گی۔

چنڈی گڑھ میئر الیکشن سے متعلق بڑا کھیل ہوگیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے تین کونسلروں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ تینوں کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کونسلروں کی تعداد بڑھ کر 17 ہوگئی ہے۔

سماج وادی پارٹی نے کانگریس کو 15 سیٹوں کی فہرست دی ہے اور کہا ہے کہ یہ حتمی فہرست ہوگی۔ اگر کانگریس ان 15 سیٹوں پر متفق ہو جاتی ہے تو اتر پردیش میں انڈیا الائنس کا اتحاد ہو جائے گا۔ اگر کانگریس اس سے زیادہ سیٹوں کا مطالبہ کرتی ہے تو یہ ایس پی کو قبول نہیں ہوگی۔

انٹرنیٹ اور سمارٹ فونز کی اس جدید دنیا میں صارفین کے لیے بہت سے کام آسان ہو گئے ہیں، جنہیں وہ گھر بیٹھے اپنے موبائل فون کے ذریعے کر سکتے ہیں، لیکن اتنی زیادہ سہولیات کے ساتھ ساتھ صارفین کے لیے کچھ مسائل بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ ان مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ …

راہل گاندھی امیٹھی اور گوری گنج قصبے میں پد یاترا کریں گے اور بابو گنج میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ فی الحال دونوں بڑے لیڈروں کے امیٹھی میں ایک ساتھ آنے کے بعد سیاست تیز ہو گئی ہے۔

کیجریوال اور ملکارجن کھڑگے نے دہلی میں ملاقات کی۔ کھرگے نے جھارکھنڈ کے سی ایم چمپائی سے بھی ملاقات کی۔ جہاں کانگریس صدر کی رہائش گاہ پر لیڈروں کے درمیان آئندہ لوک سبھا انتخابات میں سیٹوں کی تقسیم اور ناراض کانگریس ایم ایل اے کے درمیان بات چیت ہوئی۔

اس بار پرگتی میدان میں 10 سے 18 فروری کے درمیان منعقد ہونے والا نئی دہلی عالمی کتاب میلہ کئی لحاظ سے خاص تھا۔ جہاں کتاب سے محبت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، وہیں ہندوستان کی اشاعتی صنعت نے بھی نئی بلندیوں کو چھو لیا۔