گجرات کے بڈودرا ضلع میں مہی ساگر ندی میں بنے پل کا حصہ منہدم ہوگیا ۔ پل گرنے سے اب تک 5 گاڑیاں ندی میں گر چکی ہیں۔ اس حادثے میں 8 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جب کہ کچھ لوگوں کو بچا لیا گیا ہے۔ یہ پل 1985 میں بنایا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ بھوپندر پٹیل نے تکنیکی ماہرین کو جائے وقوعہ پر بھیج کر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پل گرنے کے واقعے پر سڑک و عمارت کے محکمے کے سیکریٹری پی آر پٹیلِیا نے کہا، “ہمیں مہی ساگر ندی پر گمبھیرا پل کے اچانک گرنے کی اطلاع ملی تھی، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ ماہرین کی ایک ٹیم جائے حادثہ پر بھیج دی گئی ہے۔”
#WATCH | Vadodara, Gujarat | The Gambhira bridge on the Mahisagar river, connecting Vadodara and Anand, collapses in Padra; local administration present at the spot. pic.twitter.com/7JlI2PQJJk
— ANI (@ANI) July 9, 2025
انتباہ کے باوجود پل پر آمدورفت بند نہ کی گئی
اس پل کے گرنے سے جو 5 گاڑیاں ندی میں گری ہیں، ان میں دو ٹرک مکمل طور پر ندی میں ڈوب گئے، جب کہ ایک ٹینکر آدھا لٹکا ہوا رہ گیا۔ پل گرنے کے ساتھ ہی موقع پر بھگدڑ مچ گئی اور امدادی کارروائیاں فوراً شروع کر دی گئیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ پل 1981 میں تعمیر ہوا اور 1985 میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی حالت نہایت خراب ہو چکی تھی۔ مقامی ایم ایل اے چیتنیا سنگھ جھالا نے پہلے ہی پل کی خستہ حالت کے بارے میں خبردار کیا تھا اور نئے پل کی مانگ کی تھی۔ اس کے باوجود پل پر ٹریفک بند نہیں کی گئی۔ اب حکومت نے 212 کروڑ روپے کی لاگت سے نئے پل کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے اور اس کے لیے سروے بھی کرایا جا چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ماہرین کی ٹیم کو تحقیقات کا حکم دیا
حادثے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے تکنیکی ماہرین کی ایک ٹیم کو جائے حادثہ پر بھیج کر مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حادثے کے فوراً بعد افسران متحرک ہو گئے اور ندی میں گری ہوئی گاڑیوں کو نکالنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ ساتھ ہی غوطہ خوروں نے لاشوں کو نکالنے کا کام بھی شروع کر دیا۔
یہ حادثہ ایک بار پھر پرانی اور کمزور انفراسٹرکچر پر سوال کھڑے کرتا ہے۔ اگر وقت پر ٹریفک بند کی جاتی اور نئے پل کی تعمیر شروع کی جاتی، تو شاید یہ سانحہ روکا جا سکتا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحقیقات میں کیا سامنے آتا ہے اور قصورواروں کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




