چنڈیگڑھ انتظامیہ نے پالتو اور کمیونٹی ڈاگس کے لیے نئے بائی لاز جاری کر دیے ہیں۔ شہر کو صاف ستھرا اور محفوظ رکھنے کے مقصد سے میونسپل کارپوریشن نے یہ قوانین نافذ کیے ہیں۔ اب کتوں کے مالکان کو رجسٹریشن، نسل، تعداد اور رویّے سے متعلق سخت ضوابط کی پابندی کرنا ہوگی، ورنہ بھاری جرمانہ یا کتے کی ضبطی جیسی کارروائی ہو سکتی ہے۔
خطرناک نسلوں پر مکمل پابندی
میونسپل کارپوریشن نے سات خطرناک نسلوں—امریکن بل ڈاگ، امریکن پٹ بل، پٹ بل ٹیریئر، بل ٹیریئر، کین کورسو، ڈوگو ارجنٹینو اور روٹ ویلر—کو گھروں میں پالنے پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ اب کوئی شخص ان نسلوں کے کتے نہیں پال سکے گا۔ تاہم جن لوگوں کے پاس پہلے سے یہ نسلیں موجود ہیں، انہیں 45 دن کے اندر ان کا رجسٹریشن کرانا ہوگا۔
ہر پالتو کتے کا رجسٹریشن لازمی
چنڈیگڑھ میونسپل کارپوریشن میں ہر پالتو کتے کا رجسٹریشن لازمی کر دیا گیا ہے۔ رجسٹریشن فیس 500 روپے رکھی گئی ہے جبکہ ہر پانچ سال بعد 50 روپے تجدید کاری فیس دینی ہوگی۔ رجسٹرڈ کتے کے گلے میں میٹل ٹوکن اور پٹا لگانا بھی ضروری ہے۔ بغیر رجسٹریشن کے کتے کو میونسپل کارپوریشن ضبط کر سکتی ہے۔
صفائی کی خلاف ورزی پر جرمانہ
اگر رجسٹرڈ کتا کھلی جگہ پر فضلہ کرتا ہے تو مالک پر 10 ہزار روپے کا جرمانہ عائد ہوگا۔ میونسپل کارپوریشن نے گھر کے سائز کے مطابق کتوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد بھی طے کی ہے۔ پانچ مرلہ کے گھر میں صرف ایک کتا رکھا جا سکتا ہے، لیکن اگر تین منزلہ گھر میں ہر منزل پر الگ خاندان رہتا ہے تو ہر خاندان ایک ایک کتا رکھ سکتا ہے۔
گھروں کے سائز کے مطابق حد مقرر
دس مرلہ کے گھر میں زیادہ سے زیادہ دو کتے، بارہ مرلہ میں تین اور ایک کنال کے گھر میں چار کتے رکھے جا سکتے ہیں۔ مختلف منزلوں پر رہنے والے خاندانوں کو اپنی اپنی حد کے مطابق الگ رجسٹریشن کرانا ہوگا۔ اگر کسی کتے کے ساتھ ظلم یا بدسلوکی کی شکایت ملی تو میونسپل ٹیم گھر جا کر ثبوت اکٹھے کرے گی، اور شکایت درست پائے جانے پر کتا ضبط کر کے مالک پر اینیمل کروئلٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ اور جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
عوامی مقامات پر کتوں کے داخلہ پر پابندی
انتظامیہ نے شہر کے اہم عوامی مقامات پر پالتو کتوں کے داخلہ پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ ان جگہوں میں سکھنا جھیل، روز گارڈن، شانتی کنج، لیزر ویلی، منی روز گارڈن، ٹیراس گارڈن، شوالک گارڈن، بوٹینیکل گارڈن اور میونسپل کارپوریشن کی جانب سے نوٹیفائی کیے گئے تمام پارک اور عوامی مقامات شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

