ایسٹرن پیریفیرل پر ملی لڑکی کی لاش ، کار کے ٹائر سے کچلا گیا تھا سر
Car Accident: گریٹر نوئیڈا کے ایسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے پر پیر کی صبح ایک لڑکی کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ لاش کا سر گاڑی کے ٹائر سے کچلا ہوا پایا گیا۔ ابتدائی تفتیش میں پولیس کو حادثہ کا شبہ ہے۔ لیکن پولیس لڑکی کو قتل کرکے لاش کو ایسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے پر پھینکنے کے امکان کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس سے موصولہ اطلاع کے مطابق، پولیس کو دادری تھانہ علاقے کے تحت آنے والے ایسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے پر ایک لڑکی کی لاش پڑی ہونے کی اطلاع ملی تھی۔
اطلاع ملنے کے بعد پولیس جب جلدی میں موقع پر پہنچی تو انہوں نے لاش کو دیکھا تو پولیس بھی پریشان ہوگئی۔ کیونکہ لڑکی کے ہاتھ پاؤں کے ساتھ ساتھ جسم پر کئی جگہ زخم آئے تھے اور اس کا سر گاڑی کے پہیے سے کچل کر پڑا تھا۔ حالانکہ پولیس کو قریب سے کوئی گاڑی نہیں ملی ہے لیکن پولیس کے مطابق یہ واقعہ کسی بڑی گاڑی کے ساتھ پیش آیا ہے جس کی تلاش جاری ہے۔
لڑکی کون ہے، کہاں سے آئی اور یہاں تک کیسے پہنچی، اس کی ابھی تک کوئی جانکاری نہیں ملی ہے۔ فی الحال پولیس لڑکی کو قتل کرنے کے بعد لاش پھینکنے کے امکان سے انکار کرتی نظر نہیں آ رہی ہے۔
پولیس اس زاویے سے بھی تفتیش کر رہی ہے کہ شاید کسی نے لڑکی کو قتل کر کے لاش ایسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے پر پھینک دی ہو۔ جس کے بعد لڑکی کی لاش کو کسی بڑی گاڑی نے کچل دیا ہو۔
یہ بھی پڑھیں- Delhi Car Accident:دہلی میں درد ناک سڑک حادثے میں خاتون کی موت پر ایل جی نے کہا کہ میرا سر شرم سے جھک گیا
فی الحال پولیس لڑکی کی لاش کی شناخت میں مصروف ہے اور آس پاس کے لوگوں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے پر ٹول بوتھ کے سی سی ٹی وی بھی چیک کیے جا رہے ہیں۔
پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی پولس مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے۔
-بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


