Bharat Express DD Free Dish

Delhi NCR

دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح بھی تشویش بڑھا رہی ہے۔ 25 اکتوبر کو دستیاب نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق، کئی علاقوں میں فضائی معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) 200 سے اوپر درج کیا گیا۔ وویک وہار میں اے کیو آئی 288، جہانگیر پوری میں 275 اور منڈکا میں 273 ریکارڈ کیا گیا۔بارش سے ہوا میں موجود گردوغبار کے ذرات کم ہو سکتے ہیں،

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ 4200 میٹر اور اس سے زیادہ بلندی والے علاقوں میں برف باری کا بھی امکان ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق گزشتہ ہفتے ہفتے کے روز ریاست سے مانسون کی واپسی کے بعد اب ویسٹرن ڈسٹربنس کے فعال ہونے سے موسم میں تبدیلی کا امکان ہے۔

چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا کہ بہت زیادہ امکان ہے کہ ان شکایات کے پیچھے بلڈر ہوں اور ممکن ہے کہ کچھ ایسے وکلا بھی ہوں، جنہوں نے انہیں اس طرح کی غلط صلاح دی ہو۔عدالت نے واضح الفاظ میں کہا، انہیں سمجھنا ہوگا کہ ہم مضبوط لوگ ہیں۔ ایسی حرکتیں ہمیں پیچھے نہیں ہٹا سکتیں۔ ہمیں دباؤ میں لینے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ سوائن فلو اور ڈینگی کے بڑھتے معاملات کے پیش نظر نگرانی مسلسل بڑھائی جا رہی ہے۔ اسپتالوں سے مریضوں سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہیں اور صورتحال کے مطابق ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

موسمی ماہرین کا کہنا ہے کہ مانسون ٹرف کے شمال کی جانب منتقل ہونے سے ان دنوں فضا میں نمی کی مقدار زیادہ بنی ہوئی ہے، جس کے باعث بادل بن رہے ہیں۔ تاہم یہ بارش نہ تو بہت شدید ہوگی اور نہ ہی طویل عرصے تک جاری رہے گی، لیکن درجہ حرارت میں کمی ضرور ریکارڈ کی جائے گی، جس سے حبس بھری گرمی سے لوگوں کو کچھ راحت ملے گی۔

جمعرات کو دہلی-این سی آر میں درمیانی سے شدید بارش کے امکان کے پیش نظر اورنج الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ جمعہ کو ہلکی بارش کی پیش گوئی کے باعث دہلی-این سی آر کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے، جبکہ ہفتے کو بھی ہلکی بارش کا امکان ہے، تاہم اس روز کے لیے کسی قسم کا الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔

بھارت کے محکمۂ موسمیات کی تازہ پیش گوئی کے مطابق آئندہ چند دنوں میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت میں تقریباً 7 سے 8 ڈگری سیلسیس تک کمی آ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مانسون کی سرگرمیوں میں تیزی آنے سے لوگوں کو شدید گرمی سے بڑی راحت ملنے کی امید ہے۔

دہلی-این سی آر سمیت بھارت کے کئی حصوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث جموں و کشمیر میں بھی لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.2 ریکارڈ کی گئی۔

رات کے وقت زیادہ تر رہائشی گہری نیند میں تھے، اس لیے آگ اور دھویں کے باعث عمارت میں افراتفری مچ گئی۔ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے جبکہ کئی افراد بالائی منزلوں پر پھنس گئے۔

کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سی بی آئی نے پنچکولہ کی خصوصی عدالت میں پہلی چارج شیٹ بھی داخل کر دی ہے، جب کہ مزید گرفتاریاں اور انکشافات متوقع ہیں۔سی بی آئی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں اس مبینہ گھپلے میں مزید بڑے نام سامنے آ سکتے ہیں۔