Bharat Express DD Free Dish

سیاست

عرب دنیا اور ایران میں، مردوں کے درمیان گلے ملنا — نہ صرف ایک بار بلکہ تین بار — رائج ہے۔ اس خطے میں مردوں کا ایک دوسرے کے گال پر بوسہ دینا بھی روایت کا حصہ ہے۔ جاپان میں بار بار جھک کر آداب کرنا مناسب سمجھا جاتا ہے۔

ماحولیاتی منظوری کا عمل متعدد مراحل پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں سائٹ اسیسمنٹ، ماحولیاتی تجزیہ، عوامی مشاورت اور ماہرین کی کمیٹیوں کی جانچ شامل ہیں، تاکہ ترقیاتی منصوبے قدرتی توازن کو نقصان نہ پہنچائیں۔

کمپنی نے جو ہائی-ڈینسٹی سلیکون فوٹونکس پیکیجنگ پلیٹ فارم تیار کیا ہے، وہ 32 چینل فائبر ان پٹ اور آؤٹ پٹ کو سپورٹ کرتا ہے اور اس کا انسرشن لاس 2 ڈی بی سے بھی کم ہے، جو صنعت میں سب سے بہترین ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اسکیموں کی بدولت بھارت ان صنعتی شعبوں میں بھی آگے بڑھنے لگا ہے، جہاں پہلے اسے کبھی سنجیدہ مینوفیکچرر کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا۔

گزشتہ دہائی میں بھارت کی آن لائن گیمنگ انڈسٹری نے بے پناہ ترقی کی ہے، جس کی بڑی وجہ سستا انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز کی وسیع رسائی، اور فِن ٹیک کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔

پی ایم مودی نے یاد دلایا کہ گیا جیسے شہر ‘‘لالٹین راج’’  میں اندھیرے میں ڈوبے رہے۔ ہزاروں دیہات ایسے تھے، جہاں بجلی کے کھمبے تک نہیں پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا:"نہ تعلیم تھی، نہ روزگار۔ بہار کی کئی نسلیں ریاست چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔"

ایسے نازک حالات میں، وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے 20 اگست 2025 کو پارلیمنٹ میں ’’ترقی و ضابطہ برائے آن لائن گیمنگ بل، 2025‘‘ پیش کیا ہے — جو کہ آن لائن گیمنگ کے نظام کو ضابطے میں لانے،

یہ واقعہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے اختتام کے ایک دن بعد پیش آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک شخص درخت کا سہارا لے کر دیوار پر چڑھا اور پھرپارلیمنٹ کے احاطے میں کود گیا۔

انہوں نے مزید کہا:"آن لائن منی گیمنگ عوامی صحت کا خطرہ بن چکا ہے۔ اس سے نفسیاتی مسائل، مجبوری کی عادات، پرتشدد رویے جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ کئی خاندان برباد ہو چکے ہیں۔ اس کا ایک اور خطرناک پہلو منی لانڈرنگ ہے، اور اس کے اثرات دہشت گردی کی سرگرمیوں میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ اس کو روکنے کی کئی کوششیں ہوئیں لیکن یہ مسئلہ بڑھتا گیا۔"

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا، "آج پی ایم یہاں سے ریاست بھر میں بجلی، سڑک اور شہری ترقی سے جڑی 14 منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں، دو ٹرینوں کو بھی ہری جھنڈی دکھا رہے ہیں۔ ان سب کی لاگت 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد ہے، ان تمام سے بہار کو بہت فائدہ پہنچے گا۔"