Bharat Express DD Free Dish

سیاست

اروند کجریوال ابھی وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے پابند نہیں ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے استعفیٰ دے دیں تو الگ بات ہے۔ اور پھر کوئی نیا وزیر اعلیٰ بن جائے۔1951 کے عوامی نمائندگی ایکٹ میں کوئی ذکر نہیں ہے کہ اگر کوئی وزیر اعلیٰ، وزیر، ایم پی یا ایم ایل اے جیل جاتا ہے تو اسے استعفیٰ دینا پڑے گا۔

سی ایم کیجریوال کی گرفتاری کے بعد حکام نے کہا کہ انہیں جمعہ (22 مارچ) کو پی ایم ایل اے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ای ڈی ان کی تحویل کا مطالبہ کرے گا تاکہ مزید تفتیش کی جاسکے۔

الیکشن کمیشن کو کئی شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ لوک سبھا انتخابات 2024 کی تاریخوں کے اعلان اور ماڈل ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے بعد بھی شہریوں کے فون پر ایسے پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔کمیشن کی جانب سے ہدایات موصول ہونے کے بعد وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کہا کہ یہ پیغامات ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کے نفاذ سے پہلے بھیجے گئے تھے۔

سی پی آئی کی مرکزی کمیٹی کے رکن ایوب علی خان نے کہا کہ ہم متراسین کی میراث کو دوبارہ دریافت کرنا چاہتے ہیں اور ان کے بیٹے کو اس سیٹ سے کھڑا کرنا چاہتے ہیں جس میں ایودھیا کا مندر قائم ہے۔فیض آباد پارلیمانی حلقہ آزادی سے پہلے کی کمیونسٹ تحریک کی بھرپور تاریخ رکھتا ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ حکمراں جماعت صرف کانگریس کے اکاونٹ کو فریزنہیں کررہی ہے بلکہ یہ قدم جمہوریت کو فریز کرنے کے مترادف ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ انتخابی مہم کے شروع ہونے کے باوجود ہمارے پاس دو  روپئے نہیں ہیں کہ پارٹی کی تشہیر کیلئے استعمال کیا جائے۔

راکیش ٹکیت نے تمام کسان تنظیموں کو خط لکھ کر اپیل کی ہے کہ کوئی بھی تنظیم یا کسان لیڈر کسی پارٹی یا امیدوار کی حمایت میں مہم نہیں چلائے گا۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مرکزی حکومت کو نئے ایکٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایلوش یادو کے وکیل پرشانت راٹھی نے کہا کہ نومبر میں کیس درج ہونے کے بعد سے یادو سی آر پی سی کی دفعہ 160 کے تحت طلب کیے جانے کے بعد پانچ بار پوچھ گچھ کے لیے آئے ہیں۔

ایتھکس کمیٹی نے مہوا کے خلاف الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد مہوا موئترا کے رویے کو غیر اخلاقی اور غیر مہذب سمجھتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کر دی گئی۔

اس سے قبل گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے دہلی حکومت پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے سبرامنیم پرساد کی بنچ نے کہا کہ حکام نے کیس میں جواب داخل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔