Bharat Express DD Free Dish

سیاست

یہ ویڈیو ان کی اور ان کی ماں ہیرا بین مودی کی ہے۔جسے بی جے پی نے پارٹی  کےآفیشل ایکس پر شیئر کیا ہے، اس ویڈیو میں وزیر اعظم مودی اور ان کی ماں کا رشتہ نظر آ رہا ہے۔

پی ایم مودی نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت نے ٹیچرکی بھرتی کے لیے ریٹ کارڈ بنائے تھے، بازاروں میں ریٹ کارڈ فروخت کیے گئے اورعہدوں کے لیے بولی لگائی گئی، اس کے لیے اسکام شیٹ چلائی گئیں اور فرضی انٹرویو کیے گئے۔

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ سابق وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے ملک کے اتحاد کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور یہ مہاتما گاندھی اور راجیندر پرساد سمیت دیگر کی جدوجہد تھی کہ ہندوستانیوں کو ووٹ کا استعمال کرنے کا حق ملا۔

ویڈیو کے ساتھ انہوں نے ہندی میں پوسٹ کیا، “نریندر مودی وزیر اعظم نہیں ہیں، وہ ایک راجہ ہیں۔ ایک 'کٹھ پتلی راجہ ‘ جن کی ڈور ٹیمپو  والے ارب پتیوں کے ہاتھوں میں ہیں۔

قبل ازیں ہفتہ کے روزایم ایل اے روی چندر کشور ریڈی سے ان کی رہائش گاہ پر مداحوں کے درمیان ملاقات کے بعد اللو ارجن نے واضح کیا کہ وہ اپنے دوست کی مدد کے لیے نندیالہ آئےہیں ۔ وہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔

اب اس سوال کا جواب راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے دیا ہے۔ انہوں نے کہا، "کے ایل شرما 40 سالوں سے کانگریس کے کارکن ہیں، یہ پارٹی کا فیصلہ ہے کہ راہل گاندھی کیوں امیٹھی جائیں، جو ضروری نہیں ہے

ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز اور نیشنل الیکشن واچ نے 1,717 امیدواروں میں سے 1,710 کے انتخابی حلف ناموں کا تجزیہ کیا ہے۔ اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلے میں 476 امیدواروں (28 فیصد) نے اپنے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ روپے سے زیادہ بتائی ہے۔ امیدواروں کی اوسط اثاثہ 11.72 کروڑ روپے ہے۔

بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ بی جے پی اور اس کی اتحادی تنظیمیں گاؤں گاؤں جا کر بتاتی ہیں کہ ان کی حکومت غریبوں کو مفت راشن فراہم کر رہی ہے اور بی جے پی اس کا حوالہ دے کر ووٹ مانگ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ راشن بی جے پی کے پیسے سے نہیں بلکہ عام لوگوں کے ٹیکس سے دیا جا رہا ہے۔

ہمنتا نے میٹنگ کے دوران یہ بھی کہا کہ پہلے کانگریس ہم سے پوچھتی تھی کہ رام مندر کب بنے گا۔ کانگریس والے ہم سے رام مندر کی تعمیر کی تاریخ پوچھتے تھے۔ فی الحال کانگریس جانتی ہے کہ بی جے پی والے رام مندر پر رکنے والے نہیں ہیں۔ ہمارا ایک طویل ایجنڈا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا تھا، ''مہاراشٹر کا ایک بڑا لیڈر 40-50 سال سے سیاست میں ہے۔ آج کل وہ بے تکے بیانات دے رہے ہیں۔ بارامتی انتخابات کے بعد وہ پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر چھوٹی پارٹیاں سیاست میں رہنا چاہتی ہیں تو انہیں کانگریس میں ضم ہونا پڑے گا۔