Bharat Express DD Free Dish

سیاست

تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک سی پی ایم کے اعلیٰ فیصلہ ساز ادارے پولیٹ بیورو کے رکن یچوری 2005 سے 2017 تک مغربی بنگال سے دو بار راجیہ سبھا کے رکن رہے۔ راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر، انہوں نے پارلیمنٹ میں مباحثوں اور جمہوری روایات کو تقویت بخشنے کا کام کیا۔

امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا، چاہے وہ کانگریس کے ملک مخالف اور ریزرویشن مخالف ایجنڈے کی حمایت کریں، یا غیر ملکی فورمز پر ہندوستان مخالف بولیں، راہل گاندھی نے ہمیشہ ملک کی سلامتی اور جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

راہل گاندھی کے بیان کو نشانہ بناتے ہوئے انوپریہ پٹیل نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ردعمل ظاہر کیا۔ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی جی نے کہا کہ وقت آنے پر کانگریس ریزرویشن ختم کردے گی۔ یاد رکھیں،

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سنجے راوت منی پور میں جاری تشدد کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ دو دن کے لئے ممبئی میں ہیں۔ انتخابات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ لیکن وہ منی پور نہیں جاپارہے ہیں۔

سوپور کی سیٹ کو کسی زمانے میں علیحدگی پسند رہنما اور جماعت کے نظریاتی رہنما سید علی شاہ گیلانی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ افضل گرو کے بھائی اعجاز گرو کو کسی پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا ہے،

ای ڈی نے سی بی آئی ایف آئی آر کا نوٹس لینے کے بعد سندیپ گھوش کے خلاف مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں مقدمہ درج کیا ہے۔ سابق پرنسپل 9 اگست کو اسپتال میں 31 سالہ خاتون ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اور قتل کے بعد نگرانی  کے دائرے  میں آئے تھے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ  راہل گاندھی نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران منگل کو جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں طلباء سے بات کی۔ اس دوران ان سے پوچھا گیا کہ ہندوستان میں کب تک ریزرویشن جاری رہے گا۔

اس دوران کیپٹن یوگیش بیراگی نے کانگریس امیدوار ونیش پھوگاٹ کے بارے میں کہا، "وہ ہماری بہن کی طرح ہیں اور جب تک انہوں کھیلا ہے، انہوں نے ملک کا نام روشن کیا ہے، اب وہ کانگریس کی امیدوار ہیں اور میں بی جے پی کا امیدوار ہوں

سابق وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کا یہ بیان سن کر ہال میں موجود سبھی لوگ زور سے ہنس پڑے۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ اس کے بعد انھوں نے  یہ بات صرف آپ کو ہنسانے کے لیے کہی۔ سشیل کمار شندے نے یہ باتیں رشید قدوائی کی کتاب کی ریلیز کے موقع پر کہی۔

سنتوش یادو نے مزید لکھا، "ایسے وقف کارکنوں کو ۔طر انداز کیا جا رہا ہے اور ان لوگوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جنہوں نے نہ تو پارٹی کے لیے کام کیا ہے اور نہ ہی اپنے اسمبلی حلقے کی عوام  کے لیے۔