Bharat Express DD Free Dish

NCRB Report: خواتین کے خلاف سب سے زیادہ جرائم ہوتے ہیں اس شہر میں، جانئے کون سا شہر سرفہرست ہے؟

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023 میں مجموعی طور پر 2,04,973 اقتصادی جرائم درج کیے گئے، جو کہ 2022 کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں سے تقریباً 69 فیصد مقدمات دھوکہ دہی سے متعلق تھے۔

نئی دہلی: بھارت میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں ایک بار پھر تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کی سال 2023 کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں مختلف ریاستوں اور شہروں میں ہونے والے جرائم کے اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کے خلاف سب سے زیادہ جرائم دہلی میں درج ، جب کہ مجموعی جرائم کے لحاظ سے ریاست کرناٹک سب سے آگے ہے۔
این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق سال 2023 میں دہلی میں خواتین کے خلاف 13,366 مقدمات درج کیے گئے، جو ممبئی (6,025 مقدمات) اور بنگلورو (4,870 مقدمات) سے کہیں زیادہ ہیں۔ اگرچہ گزشتہ سال کے مقابلے میں خواتین کے خلاف جرائم میں 5.7 فیصد کمی آئی ہے، قابل ذکربات یہ ہے کہ اب بھی خواتین کے خلاف جرائم میں ملک کے تمام بڑے شہروں میں سرفہرست ہے۔ سال 2022 میں دہلی میں خواتین کے خلاف 14,247 کیسز درج ہوئے تھے۔ ان مقدمات میں عصمت دری، جنسی ہراسانی، گھریلو تشدد، اورجہیز کے لیے قتل جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔
مجموعی جرائم میں کرناٹک سب سے آگے
رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں سائبر کرائم میں 31.2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 2022 میں جہاں 65,893 سائبر کرائم کے کیسز درج کیے گئے تھے، وہیں 2023 میں یہ تعداد بڑھ کر 86,420 ہو گئی۔ مجموعی جرائم کے لحاظ سے ریاست کرناٹک سب سے آگے رہی، جہاں 21,889 مقدمات درج ہوئے۔ اس کے بعد تلنگانہ کا نمبر آتا ہے، جہاں 18,236 کیسز رپورٹ ہوئے، جب کہ اتر پردیش 10,794 کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2023 میں مجموعی طور پر 2,04,973 اقتصادی جرائم درج کیے گئے، جو کہ 2022 کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں سے تقریباً 69 فیصد مقدمات دھوکہ دہی سے متعلق تھے۔
این سی آر بی کی یہ رپورٹ نہ صرف جرائم کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ خواتین اور سائبر سیکورٹی کے شعبوں میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read