اتر پردیش کی یوگی حکومت میں کابینی وزیر اور این ڈی اے کی اتحادی جماعت سُبھاسپا (سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی) کے صدر اوم پرکاش راجبھر نے بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے سلسلے میں ایک بڑا اور حیران کن دعویٰ کیا ہے۔ راجبھر نے پیر کو کہا کہ بہار میں این ڈی اے اقتدار سے باہر ہونے جا رہا ہے اور لالو پرساد یادو کے بیٹے تیجسوی یادو کی قیادت میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی حکومت بنے گی۔
دعوے کی بنیاد زیادہ ووٹنگ فیصد
او پی راجبھر نے اپنے اس دعوے کی بنیاد زیادہ ووٹنگ فیصد کو بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہار میں جب بھی ووٹنگ 60 فیصد سے زیادہ ہوئی ہے، تب تب راشٹریہ جنتا دل کی حکومت بنی ہے۔ راجبھر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے گوگل پر انتخابی تاریخ کا جائزہ لیا ہے، جس سے یہ پیٹرن سامنے آیا ہے کہ زیادہ ووٹنگ ہمیشہ آر جے ڈی کے حق میں گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہار میں جب بھی زیادہ ووٹنگ ہوتی ہے تو آر جے ڈی کی حکومت بنتی ہے۔ اس بار بھی ووٹنگ 60 فیصد سے اوپر ہوئی ہے، اس لیے آر جے ڈی کی حکومت بننی چاہیے۔
ووٹنگ پیٹرن اور لالو -آر جے ڈی کی حکومت
راجبھر کے دعوے کو اگر بہار کے انتخابی تاریخ سے پرکھا جائے تو ووٹنگ میں اضافے پر لالو یا آر جے ڈی کی حکومت بننے کا رجحان واضح نظر آتا ہے۔ 1990 میں 62.04 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی اور لالو یادو (راشتریہ جنتادل) اقتدار میں آئے تھے۔ 1995 میں 61.79 فیصد ووٹنگ ہوئی اور لالو یادو (آر جے ڈی) کی حکومت برقرار رہی۔ 2000 میں 62.57 فیصد ووٹنگ ہوئی اور لالو یادو کی دوبارہ اقتدار میں واپسی ہوئی۔ اس بار بہار میں پہلے مرحلے میں تقریباً 65 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے، جو ریاست کے کسی بھی اسمبلی یا لوک سبھا انتخاب میں اب تک کی سب سے زیادہ شرح ہے۔ راجبھر نے بہار کے سیاسی ماحول پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بہت “گھاچ پیچ” ہے۔ ان کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی بھی آر جے ڈی کے خلاف میدان میں ہیں اور پرشانت کشور (پی کے) سبھی پارٹیوں کے خلاف ہیں۔ راجبھر نے کہا کہ عوام خاموش ہے اور لیڈر ہی بول رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ عوام کا مزاج کوئی نہیں سمجھ پا رہا، لیکن بڑھی ہوئی ووٹنگ کا راست فائدہ تیجسوی یادو کو ملے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

