Bharat Express DD Free Dish

RJD chief

بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی ورکنگ صدر تیجسوی یادو نے طلبہ تحریک کے دوران گرفتار کیے گئے طلبہ کی رہائی اور ان کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو سخت وارننگ دی ہے۔

بہار اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر تیجسوی یادو نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایل پی جی گیس سلنڈر اور پٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے صورتحال مزید خراب ہونے والی ہے۔ پٹنہ سے سوربھ کمار کی رپورٹ۔

بہار اسمبلی میں این ڈی اے کے 202 ارکان ہیں، لیکن پانچوں راجیہ سبھا کی نشستیں جیتنے کے لیے اسے تین اضافی ووٹ درکار ہیں۔ مہاگٹھ بندھن کے لیے ایک نشست جیتنے کے لیے چھ ووٹ درکار ہیں۔ ایسے میں اے آئی ایم آئی ایم اور بسپا کی حمایت کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ ان کے ووٹ کسی ایک نشست کے نتائج کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

لینڈ فار جاب گھوٹالے سے متعلق کیس میں راؤز ایونیو کورٹ اب 10 دسمبر کو الزامات طے کرنے پر فیصلہ سنائے گی۔ سی بی آئی نے عدالت کو بتایا کہ کچھ ملزمان کی موت کی تصدیق کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ اس ہائی پروفائل معاملے میں لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو سمیت کئی اہم نام شامل ہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے ساتھ ہی سیاسی ماحول گرم ہے۔ ٹوٹتے ہوئے یادو خاندان کے خلاف رابڑی رہائش گاہ کے سامنے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ ایسے میں تیجسوی یادو اب کیا کریں گے؟

بہار میں این ڈی اے کو ملی جیت کے بعد وزیراعلیٰ نتیش کمار نے کابینہ کی میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا۔ یہ میٹنگ پیر کو صبح 11.30 بجے پٹنا میں ہوگی۔

جن سوراج پارٹی کا دعویٰ ہے کہ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قیادت والی حکومت نے 2025 کے اسمبلی انتخابات کے لیے ورلڈ بینک سے ملے 14,000 کروڑ روپے کے فنڈ کو "ڈائیورٹ" کر دیا۔

اتر پردیش کی یوگی حکومت میں کابینی وزیر اور این ڈی اے کی اتحادی جماعت سُبھاسپا (سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی) کے صدر اوم پرکاش راجبھر نے بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے سلسلے میں ایک بڑا اور حیران کن دعویٰ کیا ہے۔ راجبھر نے پیر کو کہا کہ بہار میں این ڈی اے اقتدار …

جب راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی ) نے اسمبلی انتخابات 2025 کے لیے کھجولی سیٹ سے برجکیشور یادو کو اپنا بااختیار امیدوار نامزد کیا، تب سے سیتارام یادو پارٹی کے فیصلے سے ناخوش بتائے گئے۔

راشٹریہ جنتا دل نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے پارٹی مخالف سرگرمیاں انجام دینےوالے 27 لیڈروں  کو پارٹی سے باہر کر دیا ہے، جس میں ممبر  ان اسمبلی سمیت  چھوٹے لال رائے اور محمد کامران شامل ہیں۔