سری نگر: جموں و کشمیر کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA) نے شیرکشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی اسٹاف نرس سرلا بھٹ کے اغوا، مبینہ تشدد اور قتل کے 1990 کے مقدمے میں 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ سری نگر کی این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیش کر دی ہے۔ سرلا بھٹ کو 18 اپریل 1990 کو قتل کیا گیا تھا۔ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق اس مقدمے کی تحقیقات میں قتل کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں پانچ افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
یاسین ملک سمیت پانچ افراد کے نام شامل
ایس آئی اے کے مطابق چارج شیٹ میں اس وقت کے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیف کمانڈر یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلُو کو نامزد کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی نے بتایا کہ نامزد ملزمان میں عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کا انتقال ہو چکا ہے، جبکہ یاسین ملک ایک دوسرے مقدمے میں عدالتی تحویل میں ہیں۔
مفرور ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری
ایس آئی اے کا کہنا ہے کہ مفرور ملزم خورشید احمد چلو کے خلاف قانونی کارروائی، بشمول اشتہاری کارروائی، شروع کر دی گئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق خورشید احمد چلو پر الزام ہے کہ اس نے سرلا بھٹ کو گولی ماری تھی اور بعد میں مبینہ طور پر پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر فرار ہوگیا۔ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے کہا ہے کہ مقدمے میں آئندہ قانونی کارروائی قانون کے مطابق جاری رہے گی۔ خبر میں درج الزامات ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA) کی چارج شیٹ اور تفتیشی دعوؤں پر مبنی ہیں۔ عدالت کی جانب سے اس مقدمے میں حتمی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

