نئی دہلی: راجستھان کے سروہی ضلع ہیڈکوارٹر میں واقع آدی واسی گرلز ہاسٹل کے انتظامات کو لے کر طالبات کا غصہ پھوٹ پڑا۔ ہاسٹل میں رہنے والی تقریباً 50 طالبات اپنی شکایات لے کر پیدل ہی ضلع کلکٹریٹ پہنچ گئیں۔ طالبات نے ضلع انتظامیہ کے سامنے کھانے کے معیار اور ہاسٹل کے انتظامات سے متعلق سنگین الزامات عائد کیے۔ طالبات کا کہنا ہے کہ انہیں فراہم کیے جانے والے کھانے میں کئی مرتبہ کیڑے مل چکے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ کھانے کا معیار انتہائی خراب ہے اور بار بار شکایت کرنے کے باوجود صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ طالبات نے یہ بھی کہا کہ جب وہ اپنی مشکلات انتظامیہ کے سامنے رکھتی ہیں تو انہیں مناسب جواب نہیں ملتا۔
شکایت کرنے پر مبینہ طور پر نامناسب رویے کا الزام
کچھ طالبات نے ہاسٹل وارڈن کے رویے پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا الزام ہے کہ شکایت کرنے پر ان سے مناسب طریقے سے بات نہیں کی جاتی اور بعض اوقات مبینہ طور پر توہین آمیز الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث طالبات میں ناراضی بڑھتی گئی۔
کلکٹر نے تمام افسران کو طلب کیا
معاملے کی اطلاع ملنے کے بعد ضلع کلکٹر روہتاشو سنگھ تومر نے طالبات سے ملاقات کی۔ انہوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک طالبات کی باتیں سنیں اور ان کی شکایات کو تفصیل سے سمجھا۔ طالبات نے کھانے کے علاوہ ہاسٹل کے دیگر انتظامات سے متعلق مسائل بھی انتظامیہ کے سامنے پیش کیے۔ معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کلکٹر نے فوری طور پر متعلقہ افسران کو طلب کیا۔ ایس ڈی ایم، تحصیلدار اور محکمہ تعلیم کے اے ڈی پی سی کو موقع پر بلایا گیا اور ضروری ہدایات دی گئیں۔ ساتھ ہی پورے معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
الزامات کی ہوگی مکمل جانچ
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جانچ رپورٹ سامنے آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔ ادھر طالبات کی حفاظت اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سرکاری گاڑیوں کے ذریعے واپس ہاسٹل پہنچایا گیا۔ اب سب کی نظریں جانچ رپورٹ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ کھانے کے معیار اور وارڈن کے رویے سے متعلق طالبات کی جانب سے لگائے گئے الزامات میں کتنی حقیقت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

