اوڈیشہ کے ضلع ملکانگیری میں ایک قبائلی خاتون کی بہیمانہ قتل کے بعد پورے علاقے میں شدید غم و غصہ بھڑک اٹھا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑا۔ اتوار اور پیر کے درمیان مشتعل قبائلیوں نے بنگالی بولنے والے گاؤں ایم وی-26 پر حملہ کر کے 50 سے زائد گھروں کو آگ کے حوالے کر دیا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے ضلع میں 24 گھنٹوں کے لیے انٹرنیٹ خدمات معطل کر دیں اور ہنگامی پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
تشدد کی شروعات کیسے ہوئی؟
رپورٹس کے مطابق 4 دسمبر کو تین دن سے لاپتہ چل رہی خاتون لاکے پاڑیامی کی لاش پوٹیرو ندی کے قریب ملی۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ لاش کا سر غائب تھا، جس نے مقامی لوگوں کے غم و غصے کو مزید بھڑکا دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ قبائلی گاؤں راکھل گُڑا اور بنگالی زبان بولنے والے گاؤں ایم وی-26 کے درمیان زمین کو لے کر پہلے سے تنازع چل رہا تھا اور یہ قتل اسی کشیدہ ماحول کو مزید بھڑکانے کا سبب بنا۔ قبائلی برادری کا الزام ہے کہ زمین کے تنازع کے باعث سُکا رنجن منڈل نامی شخص نے خاتون کو قتل کیا۔ خاتون کے اہلِ خانہ نے گمشدگی کی رپورٹ پہلے ہی کورکونڈا تھانے میں درج کرا دی تھی۔ قتل کے خلاف دو دن تک احتجاجی اجلاس اور مخالفت بھی جاری رہی۔
مشتعل ہجوم نے گاؤں کو گھیر کر آگ لگا دی
اتوار کو مشتعل بھیڑ نے پہلی بار ایم وی-26 میں داخل ہو کر بعض گھروں کو نذرِ آتش کیا، لیکن پولیس کو امید تھی کہ حالات تھم جائیں گے۔ مگر پیر کی صبح تقریباً 10 ہزار قبائلی مختلف ہتھیاروں کے ساتھ گاؤں کو چاروں جانب سے گھیر کر اندر داخل ہو گئے۔ یہ گاؤں پہلے ہی خالی ہو چکا تھا کیونکہ بنگالی نژاد لوگ جان بچانے کے لیے علاقہ چھوڑ چکے تھے۔ ضلع کے ایس پی بینود پاٹل نے بڑی کوشش کی کہ ہجوم کو سمجھا سکیں، مگر لوگ نہیں مانے اور چند ہی منٹوں میں پورے گاؤں کو آگ کے شعلوں میں لپیٹ دیا۔ مشتعل بھیڑ نے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا. اب تک خاتون کا سر برآمد نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے پوسٹ مارٹم مکمل نہیں ہو پایا ہے۔
علاقے میں بی این ایس ایس کی دفعہ 163 نافذ
تشدد کے پیش نظر پورے ضلع میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ تمام تھانوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کے تحت پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں، جس کے بعد بڑے اجتماعات اور نقل و حرکت پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے۔ اوڈیشہ کے ڈی جی پی وائی بی کھرانیا بھی ملکانگیری پہنچ کر حالات کا جائزہ لے چکے ہیں۔
بنگالی برادری میں خوف، مظاہرے اور انصاف کا مطالبہ
ادھر بنگالی بولنے والی آبادی میں شدید خوف و ہراس ہے۔ متاثرہ برادری نے ایک بڑا جلوس نکال کر ڈی ایم آفس میں احتجاج درج کرایا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ گاؤں جلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو، متاثرین کو معاوضہ دیا جائے اور خاتون کے قتل میں ملوث تمام ملزمان کی فوری گرفتاری ہو۔
انتظامیہ کی صلح کرانے کی کوشش ناکام
ضلع انتظامیہ نے دونوں گروہوں کے درمیان بات چیت کرانے کی کوشش کی، مگر ماحول کی کشیدگی کے سبب یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ تاحال علاقہ بھاری پولیس تعیناتی کے سائے میں ہے اور انتظامیہ صورتحال کو معمول پر لانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


