فائل فوٹو۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پیر کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو سرینگر میں واقع نقشبند صاحب درگاہ اور مزارِ شہداء پر جانے سے مبینہ طور پر روکنے کے اقدام کو ’’ناقابلِ قبول‘‘، ’’افسوس ناک‘‘ اور ’’شرمناک‘‘ قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ممتا بنرجی نے اس اقدام پر سخت تنقید کی۔
انھوں نے لکھا کہ ’’شہداء کے قبرستان جانے میں کیا غلط ہے؟ یہ نہ صرف افسوس ناک ہے بلکہ ایک شہری کا جمہوری حق بھی چھینتا ہے۔ آج صبح ایک منتخب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ناقابلِ قبول ہے۔‘‘ واضح رہے کہ اتوار کے روز 13 جولائی 1931 کے شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب کو روکنے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے سرینگر کے مزارِ شہداء کو سیل کر دیا تھا اور عمر عبداللہ سمیت کئی سیاسی رہنماؤں کو ان کے گھروں میں نظربند کر دیا گیا تھا۔
What is wrong in visiting the graveyard of martyrs? This is not only unfortunate, it also snatches the democratic right of a citizen. What happened this morning to an elected Chief Minister @OmarAbdullah is unacceptable. Shocking. Shameful.
— Mamata Banerjee (@MamataOfficial) July 14, 2025
عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے انھیں فاتحہ پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن اس کے باوجود وہ دیوار پھلانگ کر مزار میں داخل ہوئے۔ انھوں نے کہا ’’میں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ غیر منتخب حکومت نے راستہ بند کیا، گیٹ بند کر دیا، لیکن میں نہیں رکا۔‘‘
Nothing will stop us to pay homage to our martyrs. @OmarAbdullah #ShaheedMazar#KhawjaBazar#RemembringMartyrs pic.twitter.com/tttjfvWpKM
— Salman Sagar (@salmanalisagar) July 14, 2025
دریں اثنا عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ ریاست کے تمام منتخب نمائندوں کو بند کر دینا جمہوریت کی توہین ہے۔ واضح رہے کہ کشمیر میں 13 جولائی کو یومِ شہداء کے طور پر منایا جاتا تھا، جس دن راجہ ہری سنگھ نے کشمیری مظاہرین کو مارنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد اسے سرکاری تعطیلات کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


