مغربی بنگال کابینہ نے پیرکے روزفیصلہ کیا کہ امام، موذن اور پادریوں کے لئے مذہبی زمرے کی بنیاد پرابھی چل رہی مدد والی اسکمیں اس سال جون سے بند کردی جائیں گی۔ ریاست کی پچھلی ٹی ایم سی حکومت کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، مذہبی رہنماؤں کواطلاعات وثقافتی اموراوراقلیتی اموراورمدرسہ تعلیم کے محکموں کے تحت فراہم کردہ اعزازیہ کا مقصد ان کی سماجی واقتصادی بہبود کی حمایت کرنا تھا۔
خواتین واطفال اورسماجی بہبود کی وزیراگنی مترا پال نے کہا کہ کابینہ نے مذہبی زمروں پرمبنی اسکیموں کوبند کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے متعلق ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، جس میں اشارہ دیا جائے گا کہ اس اسکیم کے لیے موجودہ ریاستی بجٹ مختص کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلباء کے لیے موجودہ اسکالرشپ اسکیموں میں سے کسی کوبھی بند نہیں کیا جائے گا۔
امام، موذن اور پادریوں کی امداد بند
اس سال مارچ میں، گزشتہ ممتا بنرجی حکومت نے مذہبی رہنماؤں کے اعزازیہ میں 500 روپئے کا اضافہ کیا، اس کے بعد بنگال میں رجسٹرڈ مساجد کے اماموں کے لئے 3,000 روپئے اور مؤذن اورپادریوں کے لئے 2,000 روپئے ماہانہ وظیفہ دیا گیا۔ مغربی بنگال میں خواتین کے لیے زیادہ سے زیادہ مالی مدد کے بی جے پی کے انتخابات سے پہلے کے وعدوں پرعمل کرتے ہوئے، کابینہ نے “انا پورنا” اسکیم کومنظوری دی، انہیں یکم جون سے 3,000₹ ماہانہ امداد فراہم کی اورسرکاری بسوں میں ان کے مفت سفر کے لیے اصولی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ شوبھیندوادھیکاری کی صدارت میں ہوئی دوسری کابینہ میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس کوخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگنی مترا پل نے کلکتہ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کی بنیاد پرموجودہ ریاست اوبی سی لسٹ کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے سرکاری ملازمین کی سیلری اسٹرکچرکو بدلنے کے لئے ساتویں پے کمیشن کی تشکیل کوکابینہ کی منظوری کا بھی اعلان کیا۔ حالانکہ انہوں نے کنفرم کیا کہ ریاستی ملازمین کوبڑھا ہوا مہنگائی بھتہ (ڈی اے) دینے کا موضوع پیرکی میٹنگ کے ایجنڈے میں نہیں تھا۔
خواتین کو اناپورنا اسکیم اورسرکاری بسوں میں مفت سفر
اگنی مترا پال نے کہا، “کابینہ نے ‘انا پورنا’ اسکیم کواصولی طورپرمنظوری دے دی ہے، جویکم جون سے خواتین کو3,000 کی ماہانہ امداد فراہم کرے گی۔ جوفی الحال پچھلی حکومت کی لکشمی بھنڈاراسکیم کے تحت امداد حاصل کررہی ہیں وہ خود بخود انا پورنا اسکیم کے لئے اہل ہوجائیں گی۔ رقم کوبراہ راست بینک کے ذریعہ منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت جلد ہی ایک ویب پورٹل لانچ کرے گی تاکہ جن لوگوں کو ابھی تک مدد نہیں ملی ہے، وہ اس پروگرام کے لئے نئی درخواستیں دے سکیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




