Bharat Express DD Free Dish

Jagdeep Dhankhar on SC: نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکھر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ’’جمہوری طاقتوں کے خلاف نیوکلیئر میزائل‘‘ قرار دیا، بلوں پر فیصلے کے لیے صدر کو مقرر ہ وقت کا پابند کرنے پر اٹھائے سوالات

گزشتہ ہفتے ایک تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے پہلی بار یہ تجویز کیا تھا کہ صدر کو اس طرح کا ریفرنس موصول ہونے کی تاریخ سے تین ماہ کے اندر گورنر کے ذریعے غور کے لیے محفوظ کردہ بلوں پر فیصلہ کرنا چاہیے۔

نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکھر۔ (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جس میں صدر کو بلوں پر فیصلہ کرنے کے لیے ایک ٹائم لائن کا پابند کیا گیا ہے، نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان نے ایسی جمہوریت نہیں چاہی ہے، جہاں جج قانون سازی کریں گے، ایگزیکٹو کام انجام دیں گے اور ’’سپر پارلیمنٹ‘‘ کے طور پر کام کریں گے۔

گزشتہ ہفتے ایک تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے پہلی بار یہ تجویز کیا تھا کہ صدر کو اس طرح کا ریفرنس موصول ہونے کی تاریخ سے تین ماہ کے اندر گورنر کے ذریعے غور کے لیے محفوظ کردہ بلوں پر فیصلہ کرنا چاہیے۔ دھنکھر نے کہا ’’حالیہ فیصلے کے ذریعے صدر کو ایک ہدایت دی گئی ہے۔ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ ہمیں انتہائی حساس ہونا چاہیے۔ یہ کسی کے نظرثانی کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہے۔ ہم نے یہ دن دیکھنے کے لیے جمہوریت اختیار نہیں کی۔ صدر کو مقررہ وقت میں فیصلہ کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے اور اگر نہیں تو وہ قانون بن جائے گا۔‘‘

ججز صدر کے لیے وقت کی حد متعین نہیں کر سکتے: دھنکھر

راجیہ سبھا کے انٹرنز کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے، انھوں نے مزید کہا ’’لہٰذا ہمارے پاس ایسے جج ہیں جو قانون سازی کریں گے، جو ایگزیکٹو کام انجام دیں گے، جو سپر پارلیمنٹ کے طور پر کام کریں گے اور ان کی کوئی جوابدہی نہیں ہے کیوں کہ ان پر قانون نافذ نہیں ہوتا۔‘‘ دھنکھر نے کہا کہ میں انتہائی پریشان ہوں اور میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا کچھ دیکھنا پڑے گا۔

انھوں نے حاضرین کو یاد دلایا کہ ہندوستان کا صدر بہت بلند مقام ہے۔ صدر آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھاتا ہے۔ جب کہ دیگر بشمول وزرا، نائب صدر، ارکان پارلیمنٹ اور ججز آئین کی پاسداری کا حلف اٹھاتے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’ہم ایسی صورت حال نہیں دیکھ سکتے جہاں آپ ہندوستان کے صدر کو ہدایت دیں۔ اور کس بنیاد پر؟ آئین کے تحت آپ کو صرف دفعہ 145(3) کے تحت آئین کی تشریح کرنے کا حق حاصل ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read