وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے آٹھ کارکنوں نے بدھ (19 مارچ) کو پولیس کے سامنے خودسپردگی کی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کرلیاتھا۔البتہ شام ہوتے ہوتے ناگپور کے فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے آٹھ ملزمان کو 3000 روپے کی نقد مچلکے پر ضمانت بھی دے دی۔یعنی صرف چند گھنٹے کے اندر میں ہی بجرنگ دل کےکارکنان کو عدالت سے ضمانت بھی مل گئی اور پولیس دیکھتی ہی رہ گئی ۔اس قدر عدالتی فیصلے پر بھی اب سوال اٹھنے لگے ہیں ،چونکہ یہ پورا معاملہ ارونگ زیب اور ناگپور فساد سے متعلق ہے جس میں ابھی کارروائی جاری ہی ہے البتہ اس سے پہلے ہی ایک فریق کے ملزمین کو عدالت سے راحت مل گئی ہے۔
آپ کو بتادیں کہ ناگپور میں آج دوپہر کو وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے آٹھ کارکنوں نے کوتوالی پولیس کے سامنے خودسپردگی کی تھی ۔ پولیس نے انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور شام میں عدالت کی مہربانی بھی سامنے آگئی۔ یاد رہے کہ مہاراشٹرا پولیس نے ناگپور ضلع میں وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کے عہدیداروں کے خلاف چھترپتی سمبھاجی نگر میں مغل بادشاہ اورنگزیب کے مقبرے کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک مظاہرے کے دوران مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر ایف آئی آر درج کی ہے۔اس کیس میں ملوث ایڈوکیٹ سنجے بالپانڈے نے کہا کہ تمام کارکنوں نے خودسپردگی کردی ، کیونکہ لوگوں میں یہ تاثر تھا کہ پولیس یکطرفہ طور پر کام کر رہی ہے اور ملزمان کو گرفتار کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ حالات پرامن رہے، ملزمان نے خودسپردگی کی اور انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔
ادھرناگپور تشدد کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کی خبر پر، ناگپور پولیس کمشنر ڈاکٹر رویندر سنگھل نے کہاکہ ہم اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس شخص کا کردار کیا تھا، اس نے شروع سے اپنا کردار کیسے ادا کیا، ہم تمام زاویوں سے تفتیش کر رہے ہیں۔ اب تک ہم اس معاملے میں 50 ملزمان اور 7 نابالغوں کو گرفتار کر چکے ہیں، آج بھی کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت تشدد سے متاثرہ علاقے میں حالات پرامن ہیں اور لوگ تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔ ہم یہ بھی جانچ کر رہے ہیں کہ سی سی ٹی وی کیمروں کو کیسے نقصان پہنچا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



