Bharat Express DD Free Dish

Bajrang Dal

اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں 26 جنوری کو ایک دکان کے نام کو لے کر شروع ہونے والا تنازعہ اب ملکی سیاست میں مرکزِ بحث بن گیا ہے۔ جِم مالک دیپک کمار نے بھیڑ کے سامنے خود کو ’محمد دیپک‘ کہہ کر سماجی ہم آہنگی اور انسانیت کی مثال قائم کی، جس پر کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے انہیں اپنا ’ہیرو‘ قرار دیا۔

اتراکھنڈ کے کوٹ دوار سے تعلق رکھنے والے جِم مالک دیپک کمار ان دنوں ملک بھر میں بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی ایوانوں تک ان کے اقدام کو انسانیت کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ راہل گاندھی نے بھی ان کی کھل کر تعریف کی۔ تاہم، جس واقعے نے دیپک کمار کو شہرت دلائی، اسی واقعے کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔

مورتی سازوں کا کہنا ہے کہ وہ بھگوان گنیش کی یہ مورتیاں صرف اندور کے گاہکوں (کچھ گنیش پوجا منتظمین) کی دی گئی تصویروں کے مطابق بنا رہے ہیں۔

اعظمی نے لکھا کہ دھرم آباد، جو دیگلور تعلقہ میں واقع ہے،  وہاں بجرنگ دل کے کچھ لوگ ہتھیاروں کے ساتھ گھوم رہے ہیں اور مسلم کمیونٹی کے لوگوں کو دھمکانے کا کام کر رہے ہیں۔ آئندہ عیدالاضحیٰ (بقرہ عید) کے موقع پر مقامی لوگوں میں خوف کا ماحول ہے، کیونکہ یہ لوگ قربانی کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسے روکنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔

بجرنگ دل کے لوگوں نے کہا کہ پڑوسی کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے ساتھ رہنے والا پڑوسی کس ذات اور کس مذہب سے ہے۔

ہندوتوا گروپوں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے اتوار کو گجرات کے احمد آباد ضلع کے ایک نجی ہال میں عیسائیوں کے تہوار ایسٹر کے موقع پر منعقد ہونے والی ایک دعائیہ میٹنگ پر یہ الزام لگاتے ہوئے دھاوا بول دیا کہ اس تقریب میں ہندوؤں کا مذہب تبدیل کروایا جا رہا تھا۔

ادھرناگپور تشدد کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کی خبر پر، ناگپور پولیس کمشنر ڈاکٹر رویندر سنگھل نے کہاکہ ہم اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس شخص کا کردار کیا تھا، اس نے شروع سے اپنا کردار کیسے ادا کیا، ہم تمام زاویوں سے تفتیش کر رہے ہیں۔

دوسری طرف کانگریس کے ریاستی ترجمان اونیش بنڈیلا نے بجرنگ دل کی طرف سے کی گئی اس اپیل کو 'شرمناک' قرار دیتے ہوئے موہن یادو حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بگڑتے ہوئے حالات کو دیکھتے ہوئے دہلی پولیس نے پہلے ہی اس پر روک لگا دی تھی۔ تاہم، وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے ارکان کو بیریکیڈنگ پر چڑھتے ہوئے اور نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان کے ہاتھوں میں اویسی کی قابل اعتراض تصویریں بھی تھیں۔

یہ معاملہ چھجلت کے علاقے کا ہے۔ ایس ایس پی ہیمراج مینا نے  پولیس لائن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گائے کے ذبیحہ کے واقعات کا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 16 جنوری کو چھجلت تھانہ علاقہ کے صمد پور گاؤں کے قریب کنور پاتھ پر مویشیوں کی باقیات ملی تھیں۔ پولیس نے رپورٹ درج کر لی تھی۔