سنبھل ضلع کے اینچوڑ کمبوہ میں کلکی دھام پر آج یکم دسمبر سے اگلے 7 دسمبر تک کلکی کتھا کا انعقاد ہو رہا ہے۔ اس میں شامل ہونے کے لیے بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اُپیندر رائے بھی پہنچے۔ ان کے ساتھ دہلی سے بی جے پی کے رکنِ پارلیمنٹ منوج تیواری بھی موجود رہے۔ کلکی کتھا میں شامل ہونے کے لیے ملک بھر سے ہزاروں سادھو سنت کلکی دھام پہنچے ہیں۔ ہیلی کاپٹر سے پھول برساکر کتھا کا آغاز کیا جائے گا۔ سی ایم ڈی اُپیندر رائے اور رکنِ پارلیمنٹ منوج تیواری کے کلکی دھام پہنچنے پر دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم نے ان کا استقبال کیا۔ اس دوران ان کے ساتھ بہت سے سادھو سنت بھی موجود رہے۔

وزیر اعظم نے رکھا تھا مندر کا سنگِ بنیاد
اتر پردیش کے سنبھل ضلع میں تعمیر ہو رہا کلکی دھام بھگوان وشنو کے دسویں اور آخری اوتار کلکی کو وقف ہے۔ اس مندر کا سنگِ بنیاد 19 فروری 2024 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے رکھا تھا۔ مندر کی تعمیر کا کام راجستھان کے ماہر کاریگروں کی نگرانی میں کیا جا رہا ہے۔ سی ایم ڈی اُپیندر رائے اور رکنِ پارلیمنٹ منوج تیواری نے دھام میں پہنچ کر سناتن دھرم سنسد کے حمایت والے پوسٹر کو ہاتھوں میں لے کر سناتن کے تئیں اپنا احترام ظاہر کیا۔

مندر میں 10 گربھ گرہوں کی ہوگی تعمیر
بتایا گیا ہے کہ کلکی دھام مندر کی تعمیر شری کلکی دھام تعمیر ٹرسٹ کے ذریعے کرائی جا رہی ہے۔ اس مندر کا رقبہ 4.5 ایکڑ میں ہوگا۔ اس کے شکھر کی اونچائی 171 فٹ ہوگی۔ مندر کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ایک نہیں بلکہ 10 گربھ گرہ بنائے جا رہے ہیں، جن میں بھگوان وشنو کے تمام دس اوتار ہوں گے۔

گلابی پتھر سے تعمیر ہو رہا مندر
اس مندر کا تعمیراتی کام 21 مارچ 2025 سے شروع ہوا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس مندر کی تعمیر ونشی پہاڑپور کے گلابی پتھر سے کی جا رہی ہے۔ مندر کی تعمیر میں کسی بھی قسم کے اسٹیل یا لوہے کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
