Bharat Express DD Free Dish

Bharat Express CMD Upendrra Rai Speech: کتابیں نہیں ہوں گی تو نسل نو سونا کیسے بنائے گی؟ بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے کہا- کتابوں سے دوری نے بنایا غلام

بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ایک طرف دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مطالعہ ایک عادت کے طور پر اپنایا جاتا ہے، وہیں ہمارے معاشرے میں کتابوں سے دوری بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 150 کروڑ کی آبادی کے باوجود عالمی سطح پر نمایاں کامیابیوں کی کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ ہمیں اپنی تعلیمی اور فکری سمت پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پریاگ راج: سنگم نگری پریاگ راج کے میجا علاقے میں واقع شری کاشی پرساد سنگھ انٹرمیڈیٹ کالج، کٹھولی میں ”کیلاش گوتم اسمرتی پستکالیہ“ کے افتتاح کے موقع پر بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے سی ایم ڈی و ایڈیٹر اِن چیف اوپیندر رائے نے کتابوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے معاشرے میں مطالعے کے رجحان میں کمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس قوم نے دنیا کو علم و حکمت کا راستہ دکھایا، آج وہی قوم پڑھنے کی عادت سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اپنے خطاب میں اوپیندر رائے نے کتابوں کو آنے والی نسلوں کے لیے ”سونا بنانے والی مشین“ قرار دیا۔ انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے جولیئس سیجر کا ایک واقعہ بیان کیا کہ جب ان کا جہاز شدید طوفان میں گھرا تو انہوں نے قیمتی سونا چاندی سمندر میں پھینک دینے کا حکم دیا، مگر اپنی کتابوں کو محفوظ رکھا۔ جب اس پر سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر کتابیں نہ رہیں تو آنے والی نسلیں سونا کیسے پیدا کریں گی۔ اوپیندر رائے نے کہا کہ یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ علم ہی اصل دولت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو قومیں کتابوں کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہیں، وہی دنیا میں قیادت کرتی ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے جدید دور کی بڑی شخصیات جیسے مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلون مسک کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق یہ تمام افراد اپنی مصروفیات کے باوجود ہر سال باقاعدہ وقت نکال کر مطالعہ کرتے ہیں، جس سے ان کی سوچ اور فیصلوں میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔

اوپیندر رائے نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ایک طرف دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مطالعہ ایک عادت کے طور پر اپنایا جاتا ہے، وہیں ہمارے معاشرے میں کتابوں سے دوری بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 150 کروڑ کی آبادی کے باوجود عالمی سطح پر نمایاں کامیابیوں کی کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ ہمیں اپنی تعلیمی اور فکری سمت پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ہمارا زیادہ تر علم ماضی پر مبنی ہے۔ ہم اپنی تاریخ پر فخر تو کرتے ہیں، لیکن مستقبل کے لیے تیاری میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ کتابوں کو صرف امتحانات تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی شخصیت سازی اور فکری ترقی کا ذریعہ بنائیں۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ لائبریری سے بھرپور استفادہ کریں اور اپنی صلاحیتوں کو عالمی سطح تک لے جانے کی کوشش کریں۔ ان کے مطابق اگر نئی نسل نے کتابوں سے رشتہ مضبوط کر لیا تو نہ صرف انفرادی بلکہ قومی سطح پر بھی ترقی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read